بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے دعوہ اکیڈمی کی بربادی پر نظر

جو لوگ اسلامی یونیورسٹی کے نظام سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ایک جانب اگر یہاں فیکلٹیاں ہیں جن میں عام تعلیمی ڈگریاں دی جاتی ہیں، تو دوسری جانب اسلامی یونیورسٹی کے مخصوص اہداف کے حصول کے لیے یہاں خصوصی اکیڈمیاں اور انسٹی ٹیوٹس بھی ہیں۔

اس مؤخر الذکر قسم کے اداروں کو فیکلٹیوں کی بہ نسبت خود مختاری بھی حاصل ہے، اور پھر ان میں بالخصوص دعوہ اکیڈمی کے لیے تو بجٹ بھی حکومت کی جانب سے الگ سے مختص کیا جاتا ہے اور وہ یونیورسٹی کے بجٹ سے الگ دیا جاتا رہا ہے ۔

دعوہ اکیڈمی کو ایک خاص مقصد سے بنایا گیا ادارہ ہے ۔ یہ دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم طبع کر کے بڑے پیمانے پر ان کی اشاعت کرتا ہے، نیز غیر مسلم ممالک میں مقیم مسلمانوں کی دینی ضروریات پوری کے لیے خصوصی طور پر لٹریچر تیار کرتا ہے۔ پاکستان میں مساجد کے ائمہ کی تربیت کے لیے کورسز کرتا ہے ۔ مختلف سول و فوجی اداروں کے لیے کورسز ان کے علاوہ ہیں ۔نیز بچوں کے لیے خصوصی لٹریچر، پھر قرآن، حدیث، سیرت وغیرہ پر خط و کتابت کورسز ، فیصل مسجد کا انتظام و انصرام اور بھی بہت کچھ مثبت کیا جاتا ہے ۔

دعوہ اکیڈمی کے وسائل پر کئی لوگوں کی بری نظر رہی ہے ۔ اسلامی یونیورسٹی کی بربادی اس وقت شروع ہوئی جب جنرل مشرف کے دور میں ڈاکٹر محمود احمد غازی جیسے صاحب علم کی جگہ ڈاکٹر انوار صدیقی جیسے بد زبان شخص کو بطور صدر جامعہ لایا گیا ۔ اس شخص نے یونیورسٹی کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور دیگر امور کے علاوہ ایک کام اس نے یہ کیا کہ دعوہ اکیڈمی کے بجٹ سے کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ ایک پورا بلاک اور ایک پورا ہاسٹل قبضے میں لے لیا ۔ یہ بلاک اور یہ ہاسٹل ابھی تک یونیورسٹی کے قبضے میں ہے اور دعوہ اکیڈمی کو کرائے کے نام پر بس مونگ پھلی دی جاتی ہے ۔

مذید پڑھیں :

انوار صدیقی نے دعوہ اکیڈمی اور شریعہ اکیڈمی کو ختم کرنے کی بھی کوشش کی لیکن اساتذہ کے شدید احتجاج پر اسے یہ فیصلہ واپس لینا پڑا ۔ وہ کام جو انوار صدیقی جیسا آمر پرویز مشرف کے سیکولر ازم کی چھتری تلے نہیں کر سکا، وہ اسلامی یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ کر گزری ہے ۔

یقین نہ ہو تو یہ نوٹی فیکیشن دیکھ لیجیے ، جس کے مطابق دعوہ اکیڈمی کے 16 میں سے 10 اساتذہ و محققین کو دعوہ اکیڈمی سے دوسری فیکلٹیوں میں ٹرانسفر کر دیا گیا ہے اور 6 دیگر اساتذہ و محققین کو بھی "کورس لوڈ” دوسری فیکلٹیوں میں دے دیا گیا ہے ۔ اس کا آسان الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ دعوہ اکیڈمی اب محض کاغذات تک اور اپنے نام نہاد ڈائریکٹر جنرل کے دفتر تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

واضح رہے کہ اسلامی یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط میں تصریح کی گئی ہے کہ اکیڈمی کو، یا اکیڈمی سے، 17 گریڈ کے کسی ملازم کے ٹرانسفر سے قبل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل کو اعتماد میں لینا ضروری ہے ۔ ایسے ہی ڈائریکٹر جنرل ہوتے ہیں جو ادارے کو برباد کرنے میں حصہ ڈالتے ہیں ۔ کیا کسی کو فکر ہے کہ اسلامی یونیورسٹی کی اس مسلسل بربادی کا سلسلہ کہاں جا کر رکے گا ؟