جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کہاں ہیں ؟

کراچی : افغان حکومت کے ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے پاکستان وزارت خارجہ کی جانب سے لکھے گئے خط کے جواب میں بیان جاری کیا ہے کہ جیش محمد پاکستان کی تنظیم ہے اور مسعود اظہر اس کا سربراہ ہو گا ، اس سے ہمارا کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے ، لہذا وہ افغان سر زمین میں نہیں رہ سکتے نہ ہی افغانستان کی سرزمین کوئی تنظیم یا شخص کسی ملک کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں ۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستانی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پاکستان نے کالعدم جیش محمد ﷺ کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کی گرفتاری کیلئے افغانستان کو خط لکھ دیا ہے ۔

پاکستان کی جانب سے لکھے گئے خط کے متن کے مطابق مسعود اظہر ممکنہ طور پر ننگرہار اور کنڑ کے علاقوں میں ہیں ۔ لہٰذا انہیں تلاش کر کے اطلاع دی جائے اور گرفتار کیا جائے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا مسعود اظہر کی گرفتاری کیلئے خط وزارت خارجہ کی طرف سے لکھا گیا ۔ دوسری جانب وزارت خارجہ کے ترجمان نے معاملے کو حساس قرار دے کر بات کرنے سے گریز کیا ۔

جس پر اب افغانستان کا موقف بھی سامنے آ گیا ہے ۔ ادھر یہ سوال پاکستانی سوشل میڈیا پر اٹھایا جا رہا ہے کہ جہادی تنظیم جیش محمد کے سبربراہ مسعود اطہر گزشتہ دو ہائیوں سے منظر عام سے غائب ہیں ، جو مسلسل روپوش ہیں ، جن کے اس دوران صرف دو آڈیو پیغامات منظر عام پر آئے تھے ، جن میں ایک بیان مولانا اعظم طارق کی شہادت پر اور دوسرا بیان آیاتِ جہاد کی تفسیر کی تقریب رونمائی کے دوران سامنے آیا تھا ۔

مزید پڑھیں : چارلس سوم کا 28 ارب ڈالر کا تاج

اس کے بعد ان کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے ۔ تاہم اس دوران ہفت روزہ القلم اخبار میں سعدی کے قلم سے ان کا کالم مسلسل شائع ہو رہا ہے اور کارکنان کے نام ان کا ہفتے میں ایک تربیتی بلاگ کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے جس میں وہ کارکنان کی تربیت کیلئے ان کو روحانیت کی جانب مائل کرنے اور تقوی اختیار کرنے کا درس دیتے ہیں ۔

اس حوالے سے پاکستان میں چہ می گوئیاں شروع ہو گئی ہیں کہ اگر مولانا مسعود ازہر پاکستان میں نہیں ہیں تو وہ کہاں ہیں ، اور افغان حکومت کے اس بیان کے بعد بھی ان چہ می گوئیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔