پاکستان کا تعلیمی نظام

تحریر : بشریٰ جبیں

جرنلسٹ ،کالم نگار ، تجزیہ کار

تعلیم کسی بھی ملک کے لیے بہت ہی ضروری ہے۔ آج جو بھی ملک یا قوم ترقی یافتہ ہے صرف اور صرف تعلیم کے بل بوتے پر ہے۔ ہر ملک کی معاشی، سیاسی، معاشرتی حالت تعلیم پر منحصر ہے۔ اگر کسی ملک میں تعلیم کا معیار اعلی ہے تو ملک ترقی کی طرف گامزن ہو گا اور اگر کسی ملک میں تعلیم کا فقدان ہے تو اسی ملک و قوم کا مستقبل کسی خطرے سے باہر نہیں ہے ۔ تعلیم ایک اسی چیز ہے جسے کوئی نہیں چھین سکتا اور یہ ہی ملک کو بلندیوں تک پہنچاتی ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے ملک و قوم کا مستقبل کامیابی کی راہ اختیار کر رہا یا ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا؟ ہمارے ملک پاکستان میں تعلیم کا نظام قابل رحم ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے تعلیمی نصاب کے محتاج ہو چکے ہیں۔ متعدد مرتبہ تبدیل ہونے والی حکومتی تعلیمی پالیسیوں اور مخصوص نصاب نے طلباء کو محض تقلید اور رٹنے کی جانب دھکیل دیا ہے۔ ناقص حکومتی پالیسیوں میں سیاسی مداخلت، بجٹ کی غیر منصفانہ تقسیم، سرکاری اداروں میں اساتذہ کے غیر ضروری تبادلے وغیرہ شامل ہیں ۔

مذید پڑھیں : فتوی || اچھی نشونما کے لیئے عورتوں کا بال کاٹنے کا حکم

اکثر اوقات نصاب میں ایسے موضوعات بھی شامل کر دیے جاتے ہیں جن کی نہ ضرورت ہوتی ہے اور نہ اہمیت ہوتی ہے، چونکہ یہ نصاب میں شامل کر دیے جاتے ہے تو اساتذہ پر پڑھانا لازم ہو جاتا ہے تعلیم پر کم سے کم بجٹ صرف کیا جا رہا ہے۔ گورنمنٹ اسکولوں، کالجوں میں اساتذہ کی کمی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتاہے طالب علم کی تعداد زیادہ ہے جبکہ اساتذہ جو طالب علم کا رہنما ہوتا ہے گورنمنٹ اداروں میں مناسب رہنمائی کی سہولت ہی میسر نہیں ہے۔

طالب علم اپنے وقت کا ضیا کرتے ہیں اور واپس لوٹ جاتے ہیں۔ طالب علموں کو مناسب سہولتوں سے محروم رکھا جاتا ہے۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ الیکٹریسٹی کا مسئلہ، مناسب فرنیچر میں کمی، پانی کا مسئلہ وغیرہ۔ طالب علم کو نیچے فرش پر بیٹھنا پڑتا ہے۔ یہ سب مسائل طالب علموں کی پڑھائی پر اثر انداز ہوتے ہے جس کی وجہ سے طالب علم آسانی سے تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔

لیکن ان سب مسائل کے باوجود بھی طالب علموں کو ہی کیوں نااہل سمجھا جاتا ہے؟ ہماری گورنمنٹ کو تعلیمی نظام کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ تعلیم پر زیادہ سے زیادہ بجٹ صرف کرنا چاہے تاکہ طالب علموں کو پیش آنے والے مسائل سے بچایا جا سکے ۔ اگر ملک کے تعلیمی نظام پر غور و فکر نہ کی جائے اسے بدلنے کی پالیسیاں نہ بنائی جائیں تو اس ملک کے، اس قوم کے افراد کا مستقبل حصارے میں ہے۔ ملک کے نوجوان پر زیادہ سے زیادہ توجہ دی جائے اس بات کو ذہن میں رکھا جائے کہ آج کا نوجوان کل کا قائد ہے۔ نوجوان ایک ایسی قوم ہے جس کے پاس جذبہ، اور وقت دونوں موجود ہوتے ہیں اور ہماری حکومت کو چاہیے کہ اس وقت اور جذبے کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔