فتوی || اچھی نشونما کے لیئے عورتوں کا بال کاٹنے کا حکم

سوال

خاتون کے لیے بال کاٹنا کتنا مناسب ہے ؟ کیا ہر 3 مہینے تھوڑے سے بال اچھی نشونما کے لیے کاٹے جا سکتے ہیں؟ کیا غسل کے بعد فوراً بال صاف کرنا ضروری ہے یا بعد میں کر سکتے ہیں؟

 

جواب

عورتوں کا بلاعذر سر کے بال کاٹنا، نیز فیشن یا مردوں کی مشابہت اختیار کرنے کے ارادے سے بال کاٹنا ناجائز ہے، ایسی عورتوں پر رسولِ  اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔نیز ناپاکی (جنابت) کی حالت میں بال وغیرہ کاٹنا مکروہ ہے، اور اسی طرح حالت جنابت میں  جسم کے زائد بالوں کی صفائی کرنا بھی مکروہ تنزہی ہے۔ تاہم غسل کے فوراً بعد ، یاکچھ وقفہ  کے بعد  بھی بعد کاٹ سکتے ہیں، فوراً کاٹنا ضروری نہیں۔ البتہ اگر ناپاکی کے ایام یا جنابت کی حالت میں اگر غیر ضروری بالوں کو چالیس دن ہوگئے ہوں تو ان کا بلاتاخیر  کاٹنا ضروری ہوگا۔

مشکاۃ شریف کی روایت میں ہے:

” قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لعن الله المتشبهين من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال»”.

(مشکاۃ المصابيح، ج: 2، صفحه: 1262)

ترجمہ:”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسولِ  کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کی لعنت ہے ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیارکرتے ہیں اور ان عورتوں پر جومردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں”۔

 فتاوی شامی  میں ہے:

"قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت زاد في البزازية وإن بإذن الزوج لأنه لا طاعةَ لمخلوق في معصية الخالق”.

(كتاب الحظر والإباحة، ج: 6، صفحه: 407، ط: ایچ، ایم، سعید)

مذید پڑھیں : فتوی || نکاح کے وقت لڑکی کا موجود ہونا ضروری ہے یا نہیں؟

فتاوی رحیمیہ میں ہے :

’’سوال:عورت اپنے بال بڑھانے کی نیت سے بالوں کے کنارے میں تھوڑے سے بال کاٹے تو کیسا ہے؟ بعض عورتوں نے بتایا کہ  گاہے بال کے کناروں میں بال پھٹ کر اس میں سے دو بال ہوجاتے ہیں پھر بالوں کا بڑھنا بند ہوجاتا ہے، اگر سرے سے کاٹ دیے جائیں تو بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں تو ایسی صورت میں کاٹنا کیسا ہے؟

جوب:اگر معتد بہ مقدار تک بال بڑھ چکے ہیں تو مزید بڑھانے  کے لیے بال کاٹنے کی اجازت نہ ہوگی۔‘‘

(فتاوی رحیمیہ10/120،ط:دارالاشاعت)

طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"(ویکره (قص الأظفار) وفي حالة الجنابة، وکذا إزالة الشعر؛ لماروی خالد مرفوعاً: «من تنور قبل أن یغتسل جاءته کل شعرة فتقول: یا رب! سله لم ضیعني ولم یغسلني».

کذا في شرح شرعة الإسلام عن مجمع الفتاوی وغیره”.

 (باب الجمعه، ج: 2، صفحه: 143، ط: غوثیه)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"حلق الشعر حالة الجنابة مكروه، وكذا قص الأظافير، كذا في الغرائب”.

(الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها،ج: 5، صفحه: 358، ط: دارالفکر) 

فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144402100109

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن