پنجاب میں اربعین واک روکنے کیلئے IG نے احکامات دے دیئے

کراچی : انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب لاہور نے پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز کے نام لیٹر جاری کیئے ہیں کہ چہلم امام حسین رضی اللہ عنہ کے موقع پر نیا سلسلہ اربعین واک شروع کیا جا رہا ہے جس کو روکا جائے ۔

29 اگست کو جاری ہونے والے لیٹر نمبر 6860/OPS/S-III میں آئی جی نے تمام ضلعی پولیس آفیسرز کو لکھا ہے کہ سال 2020 سے مسلک اہل تشیعہ کے لوگوں کی طرف سے 20 صفر المظفر کو پاکستان میں اربعین واک کا نیا طریقہ اختیار کیا گیا جبکہ پاکستان میں اربعین واک کا سابقہ کوئی رواج نہیں تھا ۔

لیٹر میں مذید بتایا گیا ہے کہ اس اربعین واک نے پاکستان میں نہ صرف مذہبی انتشار کو جنم دیا ہے بلکہ لاء اینڈ انفورسمنٹ ایجنسیز کے لیئے سیکورٹی چیلنجز پیدا کر دیئے ہیں ۔ دیگر مسالک کے علماء اس واک پر نہ صرف تنقید کرتے ہیں بلکہ یہ اربعین واک نئی ایجاد ملک میں انتشار کا سبب بن رہی ہے ۔

مذید پڑھیں : تحریک انصاف نے ربوہ میں سیاسی دفتر قائم کر لیا

لیٹر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اربعین واک کیلئے کسی نے کوئی اجازت بھی نہیں لی ہے ۔ بظاہر پاکستان میں اربعین واک کا انعقاد عراق میں ہونے والی رسم کی وجہ سے کیا گیا ہے ۔ اس رسم میں عراق میں بڑی تعداد میں مقیم پاکستانی بھی شریک ہوتے ہیں ۔اور 2020 سے کرونا وباء کی وجہ سے سفری سہولیات پر پابندی کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے ۔

اب چند شیعہ تنظیمیں پاکستان میں اربعین واک کو متعارف کرانا چاہتی ہیں ۔سیکورٹی صورتحال اور ملک میں جاری دہشت گری کی لہر کے پیش نظر ایسے واقعات دہشت گردی کا آسان ہدف ہو سکتے ہیں ۔ اس لیئے نئے پروگرام کا انعقاد کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ضروری ہے تاکہ پاکستان میں نیا سلسلہ شروع نہ ہو ۔

مذید پڑھیں : استاد کی تنخواہ اور پکاسو کا سبق

ضلعی پولیس افسران اور ایس ایچ اوز کو 5 ہدایات جاری کی ہیں ۔جس میں کہا گیا ہے کہ شیعہ علماء و رہنماوں کیساتھ مل کر اربعین واک کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں ‛ سابقہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے عدالتوں میں کیسوں کی پیروی کو یقینی بنائیں ۔ ان کی حوصلہ شکنی کریں ‛ سزائیں دلوائیں اور رہائی پر ان سے شورٹی بانڈز بھرائیں ۔

اس لیٹر کے جاری ہونے پر بعض اہل تشیع علماء نے اس کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں نیا سلسلہ ہو رہا تھا جس کی مذمت کی جانی چاہیئے اور اس کو روکنا چاہیئے کیونکہ نیا سلسلہ نہیں ہونا چاہیئے ۔

ادھر اس اربعین واک کی روک تھام کیلئے پولیس کے اٹھائے جانے والے اقدام پر بعض اہل تشیع نے تنقید بھی کی ہے ۔