اب سب کچھ پیسہ ہی ہے

تحریر : صبور فاطمہ

سن 2022ء ہے اور مہنگائی جیسے جیسے اپنے عروج پر پہنچ ہے وہسے ہی ہر چیز کی قیمت میں کئی سو گنا اضافہ ہوا ہے ۔ مہنگائی کی یہ بنیادی وجہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہے ۔ جس کے بعد ہر چیز بابا مول ہو گئی ہے ۔ بس ، رکشوں اور چنگچیوں کے کرائے بھی بڑھ گئے ہیں ۔

کچھ دن قبل جامعہ سے گھر واپسی کے دوران چنگ چی رکشے میں سفر کر رہی تھی، ایک معمر خاتون نے اپنے اسٹاپ پر ڈرائیور سے گاڑی روکنے کا کہا اور دس روپے کرایہ دیتے ہوئے اُترنے لگیں ۔ ان دس روپوں کو ڈرائیوار نے لیتے ہی پھینک دیا اور کہا کہ کہ کہیں سے بھی چڑھو، اب 20 روپے کرایہ ہے۔ چوں کہ اس نے بہت بدتمیزی سے کہا تھا اور معمر خاتون نے کہا کہ دیتی ہوں لیکن ڈرائیور کی بدتمیزی جاری تھی جس پر معمر خاتون بولیں کہ ایک تھپڑ رسید کروں گی زیادہ بد تمیزی نہ کرو اور اتر گئیں۔ ڈرائیور نے مزید پیسے بھی نہیں لیے اور ان کے اترنے کے بعد انھیں گندی سی گالی دی ۔ جس پر مجھے بہت افسوس اور دکھ ہوا ۔

اس واقعے سے کچھ دن پہلے بھی بس میں کرایوں کے اضافے کے بعد کچھ خواتین نے کنڈیکٹر کو پہلے جو کرایہ دیا جا رہا تھا ، اُتنا دیا ۔کنڈیکٹر نے نئے کرائے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید پیسے مانگے جس پر ان خواتین نے مزید کرایہ دینے سے انکار کیا ۔ کنڈیکٹر نے اس ردِّ عمل میں چلتی بس میں اپنے عمومی مزاج میں کہا کہ یہیں اتر جاؤ ۔ جس پر ان خواتین میں سے ایک نے کنڈیکٹر کے منہ پر زنّاٹے دار تھپڑ مارا اور خوب گالیاں دینا شروع کر دیں ۔ خواتین کی جانب سے وہ بد زبانی اور گالم گلوچ اس قدر گندی دی کہ مردوں کی طرف سے یہ آوازیں آنے لگیں کہ خاموش ہو جائیں،خیر وہ خاموش نہیں ہوئیں ۔

مجھے اسکول، کالج اور یونی ورسٹی کے لیے بسوں میں مستقل سفر کرتے ہوئے دو سال بعد دو دہائی ہو جائیں گی ۔ 2004ء میں مَیں اپنے علاقے ملیر سے اسکول طارق روڈ کے قریب واقع ہے ،  وہاں جانے لے لئے بس والے کو پانچ روپے کرایہ دیتی تھی ۔ اور اب یونی ورسٹی جانے کے کا 60 روپے کرایہ دیتی ہوں ۔ ویسے بھی اب بسوں کا کم سے کم ایک اسٹاپ کا کرایہ 30 روپے مقرر ہے اور دور جانا ہو تو 100 روپے یا اس سے بھی اوپر فی کس بندہ کرایہ ہو گیا ہے ۔

مذید پڑھیں : استاد کی تنخواہ اور پکاسو کا سبق

پبلک ٹرانسپورٹ ہی میری سواری ہوتی ہے لیکن ان بسوں کے سفر کے دوران ہونے والے واقعات میرے مشاہدات میں اضافے کا سبب بنتے ہیں اور جیسے جیسے مہنگائی بڑھتے جا رہی ہے یہ بات آئے دن مشاہدے میں آ رہی ہے کہ ہماری اخلاقی اقدار ، عفو درگزر، انسانیت جس کا ہمارے نام نہاد اسلامی معاشرے میں پہلے ہی فقدان ہے ۔ مزید قحط ہوتا جا رہا ہے۔ اب تمییز ، ادب، احترام، اخلاقی و معاشرتی اقدار، بڑوں کے لحاظ میں ان کے سامنے خاموش ہو جانا اس قدر نایاب ہوتا جا رہا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں یہ کہیں نہیں ملے گا ۔

پیسہ دو عزّت لو ، کرایہ دو احترام لو ، فیس ادا کرو تعلیم حاصل کرو ، بل ادا کرو سہولت اور کھانا لو ، اپوائنمنٹ لو (خرچہ کرو) اور علاج کراؤ ۔ حتّیٰ کہ خوب صورت مالز اور اسٹورز میں مختلف اسٹالز کے پاس جو خواتین اچھّے انداز سے بات کرتی ہیں یا رہ نمائی کرتی ہیں ،اس خوش اخلاقی کے اظہار کے انھیں پیسے ملتے ہیں ۔

اب یونی ورسٹی کے شاگردوں کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون سا استاد مستقل ہے اور کون غیر مستقل و عارضی ، مقام دیکھ کر ادب کا تعین ہوتا ہے ۔ مستقل کا مقام بلند ہے اور غیر مستقل ایویں مقام پر ہی ہے ۔ پرائیوٹ اسکول کے شاگرد یہ جانتے ہیں کہ استاد کو یہاں پڑھانے کے پیسے ملتے ہیں اور یہ پیسے ان کی فیسوں سے دیئے جاتے ہیں تو ایک زاویے سے ان کے ذہن میں یہ سوچ قائم ہو گئی ہے کہ استاد ان کا زرخیز غلام ہے۔

مذید پڑھیں : کیا میٹرک سسٹم مکمل تبدیل ھو چکا ہے ؟

دوسری جانب استاد کو لگتا ہے کہ شاگرد میرا کلائینٹ ہے اور یہ Professional relation کلاس تک محدود ہے ۔ اس کے بعد یہ جا وہ جا ۔
ہم اپنی زندگیوں میں اعلیٰ اخلاقی ، معاشرتی، معاشی، اقدار کو حذف نہیں کر سکتے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسکول ، کالج اور یونی ورسٹیز میں social sciences کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں ،ان مضامین میں ماسڑز سے لے کر پی ۔ ایچ ۔ ڈی، اور اب پوسٹ ڈاک اور ڈی۔ لیٹ ڈگری کی سطح تک کے مقامات اہمیت کے حامل ہیں۔

یہ مضامین اس لیے ہوتے ہیں تاکہ انسانیت اور معاشرے کے تقاضوں ، عناصر اور ضروریات سے آگاہی ہو۔ صرف تصوّر میں ہی زندگی سے social sciences یا ان اقدرا کو حذف کر کے سوچیں ،کیا ماحول ذہن میں آئے گا ؟ ایسے ہی کہ گاڑی میں پیٹرول ڈالا جائے گا تو چلے گی ورنہ کھڑی رہے گی۔ یعنی کوئی بھی انسان بے غرض، پُرخلوص نہیں رہے گا۔ ہر کام کے لیے اور پیچھے فیس، پیسہ ہی سبب ہو گا ۔

یہیں سے ہماری زندگیوں سے مذہب کی تعلیمات، نیکی کا تصوّر، مٹتا چلا جائے گا۔ نیکی بے غرض ہوتی ہے۔ بدلے کی توقعات سے آزاد ہوتی ہے۔ تو یہ پیسہ ہمیں مادّیت پرست بنانے کے ساتھ ساتھ آخر میں ملحد بنا کر ہی چھوڑے گا ۔

اس نکتے پر ہمیں سوچنے، سنبھلنے اور سمجھنے کی بہت ضرورت ہے ورنہ آئندہ نسلیں یا وہ نسلیں جو ابھی پروان چڑھ رہی ہیں وہ نیکی کے تصوّر کے بہ جائے پیسے کے تصوّر پر کام کریں گی۔ اسی لیے ہمارے دینی اقدار اور نیکی کے حقیقی تصوّر کو بچوں تربیت اور ذہنی نشوونما میں مضبوط کیا جائے اور اس پہلو کو ابھی سے اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تا کے بعد میں خطرناک نتائج کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔