کوکین ، ہیروئن اور چرس پینے والوں کی اب خیر نہیں

اسلام آباد : منشیات بیچنے اور استعمال کو روکنے کے لٸے نیا قانون بن گیا ۔ منشیات کے عادی اور فروخت کنندہ کو اب سزاٸے موت دی جاٸیگی ۔

منشیات کنٹرول ترمیمی بل 2022 کی منظور کر لیا گیا ہے جس کے مطابق منشیات کے عادی کو سزاٸے موت مقرر کر دی گئی ہے ۔ ہیروئن، مارفین، کوکین، چرس اور آئس سمیت دیگر نشہ آور ادویات اور منشیات پر فورن گرفتاری کی جاٸیگی ، گرفتار جوبدار کی ضمانت نہیں ہو سکے گی ۔

مذید پڑھیں : راۓ ونڈ تبلیغی اجتماع کا شیڈول جاری کر دیا

منشیات روک تھام بل کے مطابق غیر قانونی منشیات کے جرائم پر سزائے موت یا عمر قید کی سزا ہو گی اور صدر مملکت کی منظوری کے بعد یہ بل منشیات کنٹرول ترمیمی ایکٹ 2022 ہو گیا ہے ، جس کا اطلاق ہو چکا ہے ۔

بل کے مطابق سزائیں

ہیروئن یا مارفین کی 4 کلو گرام یا زائد مقدار کے جرائم پر 20 سال سے زائد قید ہو گی اور جرمانہ 10 لاکھ روپے سے زائد ہو گا ۔ 5 کلو یا زائد کوکین کے جرم میں سزائے موت یا 20 سال سے زائد قید اور 25 لاکھ جرمانہ ہو گا ۔ آئس کی 4 کلو گرام یا زائد مقدار پر سزائے موت یا 25 لاکھ روپے جرمانہ اور عمر قید ہو گی ۔

یاد رہے کے آٸس نامی منشیات نے ملک کے اکر کالجز اور یونیورسٹیز میں اپنا ڈیرہ جما لیا تھا جس کے باعث نوجوان اپنی زندگی خراب کر رہے تھے ۔ جب کے چرس ، افیم ، ہیروٸن سمیت دیگر منشیات بھی گلی کونچوں میں عام ہو چکی ہے ۔ جس کو قابو کرنے کے لٸے قانون سازی کی گٸی ہے ۔