قائمقام VC محمد علی شیخ نے پہلے ہی گھنٹے میں ڈائریکٹر فنانس کو نوکری سے برخاست کردیا

رپورٹ : اختر شیخ

ڈاکٹر محمد علی شیخ نے سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے ہی گھنٹے میں ڈائریکٹر فنانس غلام علی سرہیو سے جبری استعفیٰ لے کر انہیں نوکری سے برخاست کر دیا۔

محمد علی شیخ کی شخصیت انتہائی متنازع ہو نے کے باوجود سندھ حکومت نے مستقل وائس چانسلر کی تقرری تک ڈاکٹر محمد علی شیخ کو سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کاقائم مقام وائس چانسلر تعینات کر دیا۔ محمد علی شیخ نے عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی گھنٹے میں تین ماہ قبل ڈائریکٹر فنانس غلام علی سرہیو سے جبرا لیا گیا استعفیٰ جو کہ التواء پر تھا منظور کر کے انہیں فارغ کر دیا۔

ڈائریکٹر فنانس کو آفس آرڈر میں آفیشیئیٹنگ لکھا گیا ہے جب کہ وہ گورنر/چانسلر کی منظوری سے بھرتی ہونیوالے باقاعدہ افسر تھے جبکہ محمد علی شیخ نے اس کے آرڈر پر قائم مقام وائس چانسلر کی جگہ خو دکو وائس چانسلر لکھا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈائریکٹر فنانس کی تقرری اور برخاست کرنے کا اختیار وزیر اعلی اور سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے پاس ہے وائس چانسلر اس عہدے پر تعینات کسی شخص کو فارغ نہیں کر سکتا۔

محمد علی شیخ دو بار وائس چانسلر رہنے کے بعد 19فروری کو عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے

معلوم ہوا کے کہ 15 دن میں دوسری بار ایساہوا ہے کہ ڈاکٹر محمد علی شیخ نے وزیر اعلی اور سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے اختیارات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قانون کا گلا گھونٹ دیا۔ یاد رہے کہ انہوں نے اپنے لئے میریٹورئس پروفیسر گریڈ 22 کا آرڈر بھی خود نکالا تھا۔بتایا جا رہا ہے کہ ذیلی افسران ان کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف ہیں لیکن ان کو ڈرا دھمکا کہ زبردستی دستخط لیے جا رہے ہیں۔

تیسری بار قائم وائس چانسلر بننے والے ڈاکٹر محمد علی شیخ نے آتے ہی اساتذہ کو جمع کرکے خطاب کیا

ایسے ہی غیر قانونی اقدام کی مخالفت پرڈائریکٹر فنانس کے بعد اب رجسٹرار کو بھی دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا ہے۔ تعلیمی حلقوں نے قانون کے خلاف ورزی پر اعلی اداروں کی خاموشی پر تشویش کااظہار کیا ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر محمد علی شیخ اس سے قبل دو بار سندھ مدرستہ السلام میں وائس چانسلر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں اور خلاف قانون ان کا نام منتخب ہونے پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔

تعلیم و تعلم کے ادارے کے سربراہ کو یوں جھک کر سلام کرنا تعلیمی ادارے کی تربیت پر سوالیہ نشان ہے

اس سے قبل ان پر اساتذہ کو حراساں کرنے، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر محمد علی شیخ ایک با اثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ان کو یہ ذمداری سونپ دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں