ڈینگی

تحریر : سید عزیز الرحمن

کل کے دن کا آغاز انتہائی افسوسناک خبر سے ہوا ۔ معمولات زندگی شروع کرتے ہی علم ہوا کہ حنید لاکھانی ڈینگی بخار کے نتیجے میں اپنی جان سے گزر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ان سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوسکا۔لیکن کوئی سال بھر قبل دو بار ان کے قائم کردہ اسپتال حسین لاکھانی ہسپتال سے کرونا ویکسین کے سلسلے میں مستفید ہونے کا موقع ملا۔اس کے علاوہ بھی اسپتال کے بارے میں معلومات ملتی رہتی تھیں، جن سے اطمینان بھی ہوتا اور منتظمین کے لیے دل سے دعائیں بھی نکلتیں۔ایسا ہیرا بھی ڈینگی نے نگل لیا۔

اب کس سے کہا جائے، کہاں کہا جائے،کیا کہا جائے۔یہاں تو ہر چیز سیاست ہے،ہر چیز ووٹ ہے، ہر چیز شہرت،تشہیر اور ذریعہ آمدن ہے۔کتنے ہی چھوٹے بڑے ادارے اس وقت سیلاب زدگان کے نام پر ان کی مدد سے زیادہ اپنی تشہیر میں اور اس کی بنیاد پر آئندہ آنے والے متوقع الیکشن کی کمپین چلانے میں مصروف ہیں۔ تماشا یہ ہے کہ کتنی جگہوں پر کئی کئی روز بلکہ ہفتوں سے شہریوں کی جانب سے دیا جانے والا سامان جوں کا توں دھرا ہے، لیکن انہیں وہاں سے ہٹایا نہیں جا رہا کہ اس کے بعد وہ پھیلے ہوئے فٹ پاتھ، ٹھیلے اور اسٹال خالی ہو جائیں گے۔ کتنی ہی بڑی تنظیموں کے اسٹال لگے ہوئے ہیں لیکن وہاں کوئی شخص نظر نہیں آتا۔خیر یہ الگ موضوع ہے،اور اس پر بھی لکھنا ہے۔

مذید پڑھیں : راۓ ونڈ تبلیغی اجتماع کا شیڈول جاری کر دیا

پورے ملک کی سیلاب زدگان کی خدمت میں مصروف یہ شہر ناپرساں اس وقت ڈینگی کے انتہائی خطرناک وبائی کیفیت میں مبتلا ہے۔ کوئی ایک گھر شاید شہر میں ایسا نہیں ہے جس کے عزیزوں اور جاننے والوں میں کوئی شخص یا ایک سے زائد افراد ڈینگی سے متاثر شدہ موجود نہ ہوں، لیکن اس کے باوجود شہر کا کیا حال ہے،ادھڑینہوئی سڑکوں اور اجڑے ہوئے شہر اور اس کے برباد علاقوں کو بھی چھوڑ دیجئے، گندگی کے ڈھیر بھی اسی طرح رکھیے، لیکن اتنی بڑی وبائی کیفیت کے باوجود بیماریوں سے بچاؤ کے لیے اسپرے تک کوئی انتظام نہیں ہے۔

یہ کرنے کا کام ہے اور یہ صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے لیکن اگر وہ نہ کرے جیسا کہ وہ اپنی ذمے داریوں کے بہت سے کیا کسی ایک ذمے داری کا کام بھی انجام نہیں دے رہی تو انتظامی اختیارات رکھنے والے افسران کیا کر رہے ہیں، بلدیہ کہاں ہے،کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کہاں مصروف ہیں۔ یہ کام شہر کے مختلف علاقوں اور حلقوں میں قائم چھوٹی بڑی سماجی تنظیمیں بھی کر سکتی ہیں۔ وہ لوگ جو مسلک کی بنیاد پر مختلف سڑکوں کو سال میں ایک دو بار جھاڑو لگوانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں وہ بھی آگے بڑھ کر ایسے موقع پر انتظامیہ کو دباؤ میں لے سکتے ہیں کہ یہ خالص انسانی جان کا معاملہ ہے،انسانی جان اس وقت کراچی میں انتہائی خطرات سے دوچار ہے،اور دوسرے بہت سے خطرات کے ساتھ یہ وبا انہیں بری طرح دبوچ رہی ہے۔مگر اس شہر ناپرساں کا کوئی پرسان حال دور دور تک نظر نہیں آتا۔

اپنے اوپر ہم خود ہی انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لیتے ہیں ہیں کہ شاید ہمیں یہ پڑھنے والا بھی کوئی میسر نہ آئے۔