جامعہ اردو : 32 لاکھ خرچ کرنے والی سرچ کمیٹی کیخلاف کارروائی کی جائے : روشن علی

وفاقی اردو یونیورسٹی

یونیورسٹی کے 32 لاکھ روپے خرچ کر کے بھی سرچ کمیٹی اردو یونیورسٹی کو مستقل وائس چانسلر دینے میں ناکام

صدرِ پاکستان اس ناکامی پر قانونی کارروائی کریں
اردو یونیورسٹی کے لیے فوری طور پر مستقل اور اہل وائس چانسلر کا تقرر کیا جائے، روشن علی

کراچی : وفاقی اردو یونیورسٹی کی انجمن اساتذہ (عبدالحق کیمپس) کے جنرل سیکریٹری روشن علی نے بیان جاری کیا ہے کہ مستقل وائس چانسلر کے تقرر کے لیے صدر پاکستان کے دوست زوہیر عشیر کی سربراہی میں تشکیل دی گئی سرچ کمیٹی کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔

روشن علی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سرچ کمیٹی نے یونیورسٹی کے 32 لاکھ کئی مہینوں تک جاری اجلاسوں پر خرچ کیے اور اس کے باوجود اردو یونیورسٹی کو مستقل وائس چانسلر دینے میں ناکام رہی اور یونیورسٹی ایک بار پھر قائم مقام وائس چانسلر کی تلاش میں ہے۔

مذید پڑھیں : جامعہ اردو انجمن غیر تدریسی کا قلم چھوڑ ہڑتال پر غور

ان کا بیانیہ ہے کہ سرچ کمیٹی کی طرف سے منتخب کیے گئے سر فہرست 3 امیدواران میں سے 2 امیدواران کی اہلیت پر سوالیہ نشان آ گئے جس کے نتیجہ میں ڈاکٹر شاہد قریشی نے اپنا تقررنامہ جاری ہونے کے باوجود جوائن نہیں کیا جبکہ ڈاکٹر اطہر عطاء چند دن گزارنے کے بعد کینیڈا واپس چلے گئے۔

ڈاکٹر شاہد قریشی 3 امیدواران کی اس فہرست میں پہلے نمبر پر براجمان تھے جن کی پروفیسر ہونے کی اہلیت پر سوال اٹھے جب کہ فہرست میں شامل تیسرے نمبر پر ڈاکٹر ظفر قریشی بھی مطلوبہ اہلیت پر پورا نہیں اترتے تھے جس کی تصدیق ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کی۔

نتیجتاً ڈاکٹر اطہر عطاء کو مستقل وائس چانسلر تعینات کیا گیا اور کینیڈا سے تشریف لانے والے ڈاکٹر اطہر عطاء بھی یونیورسٹی کو بحرانوں سے نکالنے میں ناکام رہے اور چند دن یونیورسٹی میں گزارنے کے بعد عید کی چھٹیاں گزارنے کی غرض سے کینیڈا گئے اور آن لائن یونیورسٹی کو چلانے کا تجربہ کرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد کینیڈا سے ہی اپنا استعفیٰ دے دیا۔

جنرل سیکریٹری انجمن اساتذہ نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ زوہیر عشیر صاحب اور سرچ کمیٹی کو پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو وائس چانسلر کی اہلیت پر پورا اترتا ہو؟ ۔

مذید پڑھیں : ہولی فیملی ہسپتال میں ڈاکٹر پر مریضوں کا خون پینے کا الزام ثابت نہ ہو سکا

روشن علی نے صدرِ پاکستان و چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ سرچ کمیٹی کی اس ناکامی اور اس ک


ے نتیجہ میں یونیورسٹی میں ایک بار پھر بحران کی کیفیت پیدا ہونے کی تحقیقات کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ چونکہ اردو یونیورسٹی اب مزید تجربات کی حامل نہیں ہو سکتی لہٰذا فوری طور پر کسی اعلی علمی شعبہ سے تعلق رکھنے والی شخصیت کی سربراہی میں سرچ کمیٹی تشکیل دے کر ایسے وائس چانسلر کا تقرر کیا جائے جو نہ صرف پاکستان اور اردو یونیورسٹی کے معروضی حالات سے واقفیت رکھتا ہو بلکہ وہ مستقل مزاجی کے ساتھ اردو یونیورسٹی کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔