ہولی فیملی ہسپتال میں ڈاکٹر پر مریضوں کا خون پینے کا الزام ثابت نہ ہو سکا

اسلام آباد : ہولی فیملی ہسپتال میں مریضوں کا خون پینے والی لیڈی ڈاکٹر بے گناہ قرار دے دے گئی ۔ میں نے کبھی کسی مریض کا خون نہیں پیا مجھ پر جھوٹا الزام لگایا گیا : لیڈی ڈاکٹر

راولپنڈی (اسرار احمد راجپوت سے) ہولی فیملی ہسپتال کے سرجیکل یونٹ ون میں تعینات فی میل ڈاکٹر/ہاؤس آفیسر کو مریض کا خون پینے کے الزام سے بری کر دیا گیا کیونکہ وہ اس فعل میں ملوث نہ تھی۔

چند روز قبل لیڈی ڈاکٹر کے بارے میں افواہ زیر گردش تھی کہ ایک لیڈی ڈاکٹر مریض کے کینولا سے خون پیتے پکڑی گئی ہے ۔ جبکہ اس پر CP Vile سے بھی خون پینے کا الزام بھی ہے۔

تاہم ہولی فیملی انتظامیہ نے واقعہ کی اعلی سطح انکوائری کروائی ۔ جس میں لیڈی ڈاکٹر کو بے گناہ قرار دیا گیا ہے ۔اس ضمن میں ایم ایس ہولی فیملی ڈاکٹر شازیہ زیب کا کہنا ہے کہ HO پر محض الزام تھا جس کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

مذید پڑھیں : محمکہ تعلیم کی پرائیویٹ سکولوں سے متعلق والدین کی رہنمائی کیا ہے ؟

مزید برآں جب ہولی فیملی اسپتال کے ترجمان ڈاکٹر تنویر سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایک مریضہ کی اٹینڈنٹ نے زبانی کلامی HO کے خلاف ان کی مریضہ کے کینولا سے خون پینے کی شکایت کی تھی جس پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی لیکن شکایت کنندہ نہ تو کمیٹی کے سامنے پیش ہوئی نہ ہی اس نے ہسپتال انتظامیہ کو کوئی تحریری شکایت درج کروائی ہے۔

ڈاکٹر تنویر کا کہنا تھا کہ SU-1 کے انچارج ڈاکٹر جہانگیر سرور خان نے الگ سے بھی انکوائری کی مگر انہیں لیڈی ڈاکٹر کے خلاف عائد کیے گئے الزام کا کوئی ثبوت نہیں ملا جس پر لیڈی ڈاکٹر کو بے گناہ قرار دیا گیا ہے ۔

سورس کے زریعے ہولی فیملی اسپتال کی گائنی وارڈ میں اسی لیڈی ڈاکٹر کی دوران ڈیوٹی یہی فعل دہرانے کی اطلاع ملی تھی جس پر ذرائع ابلاغ میں بھی شور اٹھا تھا ۔تاہم وہ اطلاع مصدقہ نہ تھی ۔

بعد ازاں لیڈی ڈاکٹر کے والد ثاقب حفیظ جو انتہائی شریف النفس و ایجوکیٹڈ شخص ہیں نے رپورٹر سے رابطہ کیا اور دفتر آ کر ملنے کی خوائش کا اظہار کیا ۔ جس پر رپورٹر نے کہا آپ نہیں میں خود آپ کے گھر آؤں گا اور جب میں اس فیملی سے ملا تو پتہ چلا HO کی والدہ بھی سرکاری کالج میں لیکچرر ہیں۔ جب لیڈی ڈاکٹر سے بات ہوئی تو انہوں نے اپنے اوپر لگنے والے الزام کی تردید کی اور کہا وہ اس فعل میں ملوث نہیں ہیں جبکہ ہسپتال کی انکوائری کمیٹی نے بھی انکو بے گناہ قرار دیا ہے۔

مذید پڑھیں : کوئٹہ Ptv میں خواتین کو ہراساں کرنے کی شکایات

لیڈی ڈاکٹر کے والد کا کہنا تھا انہوں نے HFH انتظامیہ کی ہدایت پر اپنی ڈاکٹر بیٹی کے خون کے نمونہ جات کا شہر کی مستند سٹی لیب سے کروایا جو کہ نیگیٹیو آیا جس سے اس الزام کی نفی ہوئی کہ میری بیٹی مریضوں کا خون پیتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تومیری بیٹی کے خون میں بھی ان بیمار مریضوں کے خون کے چرثومے پائے جاتے۔ ثاقب حفیظ نے مزید بتایا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کا نفسیاتی معائنہ بھی کروایا جس میں وہ زہنی طور پر مکمل فٹ قرار دی گئی اور دوبارہ ہسپتال میں نوکری لیے موضع قرار دی گئی۔