کیا ملکہ الزبتھ آل رسول تھیں؟

8 ستمبر کو مرنے والی آنجہانی برطانوی ملکہ الزبتھ دوئم 70 برس اور7 ماہ طویل ترین عرصے تک برسراقتدار رہنے والی خاتون حکمران کا ریکارڈ اپنے نام کر چکیں ۔ وہ عالمی سطح پر تیسری لمبے عرصے تک حکمرانی کرنے والی سربراہ مملکت رہی ہیں ۔

ملکہ الزبتھ 23 جنوری 2015 کو وفات پانے والے سعودی عرب کے سابق بادشاہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے بعد دنیا کی معمر ترین حکمران تھیں ۔ (شاہ عبداللہ ملکہ الزبتھ سے دوبرس بڑے تھے) ۔

21 اپریل 1926 کو پیداہونے والی الزبتھ نے 1947 میں شہزادہ فیلیپ کے ساتھ محبت کی شادی کرنے کے بعد 6 فروری 1952 کو اپنے والد کے بعد پچیس برس کی عمرمیں بادشاہت سنبھالی ۔ انہوں نے دنیا کے 150 ممالک کے دورے کئے ۔ مگر اسرائیل کا کوئی دورہ نہیں کیا ۔ جس کی وجہ عرب ممالک کی ناراضگی کاخوف تھا ۔

مزید پڑھیں : امام مسجد کا عمران خان کو قادیانی ایجنٹ کہنا مہنگا پڑ گیا

ملکہ الزبتھ کے بارے سوشل میڈیا اورمین اسٹریم میڈیا پر وائرل ہے کہ وہ آل رسول تھیں ۔ ان کا تعلق اسپین کے مسلمان حکمران خاندان کے توسط سے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ برطانوی جریدے ڈیلی میل نے 6 اپریل 2018 کو ایک مراکشی جریدے کا حوالہ دیتے ہوئے اس کا دعویٰ شائع کیا تھا ۔
یہ دعویٰ سب سے پہلے سابق مصری مفتی اعظم علی جمعہ نے مصری ٹی وی سی بی سی کے پروگرام ’’واللہ اعلم ‘‘ میں یورپ میں مسلمانوں پرہونے والے مظالم کے ضمن میں کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملکہ برطانیہ کے دادا بھی بنی ہاشم سے تعلق رکھنے والے مسلمان تھے جنہیں اسپین میں زبردستی عیسائی بننے پر مجبور کیا گیا تھا ۔

تحقیقات کے مطابق علی جمعہ سے قبل یہ مشہور مغربی ماہرانساب بیرک بیراگ نے 1986 میں کیا تھا اور علی صاحب نے انہیں کے حوالے سے اپنے پروگرام میں اسے پیش کیا تھا ۔

تاہم برطانویی جریدے ٹائمز کے مطابق بیرک بیراگ اپنے اس دعوے کو ثابت نہیں کرسکے تھے ۔ جبکہ اسی سال برطانوی مصنف ہیرالڈ بروکس بیکرنے بھی بیرک بیراگ کے اس دعوے کو جھوٹ اور غلط قرار دیا تھا ۔

اسی وقت بکھنگم پیلس نے ماہر انسان بیرک کے اس دعوے کی نفی کردی تھی اور اعلان کیا تھا کہ ملکہ الزبتھ کے بارے یہ دعویٰ درست نہیں ہے ۔

برطانوی جریدے ٹیلی گراف نے بھی اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے بیکر کو من گھڑت انکشافات کرنے کا مرتکب قرار دیا تھا ۔ 2005 کو بیکر کی وفات پر ٹیلی گراف نے ایک مرتبہ پھر اسے ایک غیر معتمد ذریعہ قراردیتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ ہمیشہ خود کو نمایاں کرنے اور لوگوں کی مبذول کرانے کے لئے بے بنیاد دعوے کرتے تھے جو ہمیشہ غلط ثابت ہوتے تھے ۔

2018 میں مراکش کے ایک مصنف نے دوبارہ اس معاملے کو اٹھایا اور بیکر کا حوالہ دیتے ہوئے ملکہ الزبتھ کے نسب کو ہاشم سے ملانے کی کوشش کی لیکن برطانوی جریدے ایکونومسٹ نے اسے سختی سے مسترد کر دیا ۔ اسلام سے متعلق متعدد کتابیں لکھنے والی خاتون لیزلی ہازلٹن نے بھی اس دعوے کو مضحکہ خیز قراردیتے ہوئے اس کی تردید کی ہے ۔

تاہم حقیقت کیا ہے اس بابت کوئی حتمی معلومات نہیں ہیں ۔ البتہ یہ احتمال ہے کہ اگر ملکہ کا نسب ثابت ہوتا ہے تو ایسے میں یورپ میں مسلمانوں کو زبردستی عیسائی بنانے والی تاریخی روایات کی تصدیق ہوگی جس پر یورپ کا تعصب ظاہر ہو گا ۔نیز یہ خوف بھی اپنی جگہ ہے کہ ملکہ کی نسل میں کوئی شہزادہ اپنے پس منظر کے بارے معلوم کرکے اسلام سے قرابت کا اعلان کرے ۔