واٹر بورڈ اینٹی تھیفٹ سیل کا پانی چوروں کیخلاف منگھو پیر میں 2 روز تک آپریشن

کراچی : حب ڈیم بھرنے کے بعد پانی چوروں نے حب ڈیم سے آنے والے والی لائنیوں اور ضلع غربی میں پانی کا دھندہ پھر سے شروع کر دیا ہے ۔ حب ڈیم میں خشک سالی کے باعث پانی چوروں نے نیٹ ورک منگھو پیر سے سپرہائی وے ، کورنگی ، ملیر میں منتقل کر دیئے تھے ۔ 

حب ڈیم کے بھر جانے کے بعد مافیا نے ایک بار پھر ضلع غربی میں پانی کا دھندہ بلا خوف شروع کر دیا ہے ۔ جس کی وجہ سے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ ، سیکرٹری بلدیات ، وائس چیئرمین سید نجمی عالم ، ایم ڈی واٹر بورڈ کی جانب سے اینٹی تھیفٹ سیل کو احکامات دیئے گئے ہیں کہ پانی چور مافیا کے خلاف آپریشن تیز کیا جائے ۔

جس کے بعد اینٹی تھیفٹ سیل کے انچارج عبدالواحد شیخ نے ٹیم کے ہمراہ منگھو پیر کے مختلف علاقوں میں آپریشن شروع کر دیا ہے جس میں 7 اور 8 ستمبر کو آپریشن کئے گئے ہیں جب کہ جلد ہی ایک اور آپریشن کیا جائے گا ۔

مذید پڑھیں : امام مسجد کا عمران خان کو قادیانی ایجنٹ کہنا مہنگا پڑ گیا

اینٹی تھیفٹ سیل کی جانب سے 7 ستمبر کو رمضان گوٹھ میں آپریشن کیا ،جس کا مقدمہ منگھو پیر تھانے میں درج کرایا گیا ہے ، مقدمہ نمبر 725/2022 کے مطابق رمضان گوٹھ میں پانی چوروں کے خلاف آپریشن کے نتیجہ میں 9 غیر قانونی کنکشن برآمد کر کے زیر زمین ٹینک مسمار کر دیئے گئے ہیں ۔ جن پر 14 اے ، بی اور 430 ، 34 /2015 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے

پانی چوروں عابد ، علی گل ، بشیر ، محمد بخش ، صفدر یونس پولیس والا ، کیشیئر ، خولہ خان ، دولت خان پولیس پارٹی اور واٹر بورڈ افسران کو دیکھ کر فرار ہو گئے ۔ مذکورہ ملزمان نے واٹر بورڈ 24 انچ قطر کی مین لائن سے متعدد غیر قانونی کنکشن لے رکھے تھے جہاں سے پانی چوری کر کے فروخت کر رہے تھے ۔

واٹر بورڈ اینٹی تھیفٹ سیل کی جانب سے منگھو پیر کے علاقے مہران سٹی میں 8 ستمبر آپریشن کیا گیا جہاں پر 6 غیر قانونی ہائیڈرنٹس مسمار کئے ، جن کے مالکان نے عامر بروہی ، لواستار ،مہیر اللہ بروہی ، ناصر بروہی ، ریاض بروہی اور شیرا نامی شخص مبینہ طور پر پانی چوری کر کے فروخت کر رہے تھے ۔

مذید پڑھیں : میٹرک بورڈ کے نتائج میں دسویں جماعت کے 80 فیصد طلبہ کامیاب

مذکورہ مالکان کے خلاف واٹر بورڈ اینٹی تھیفٹ سیل کے اے ای ای جمیل الدین خان نے تھانہ منگھو پیر میں مقدمہ نمبر 726/2022 درج کرایا ہے جس میں پانی چوری کی دفعہ 14A(i) اور 14B(I) کے علاوہ 430/34 درج کرائی گئی ہیں ۔ ملزمان 24 انچ کی مین لائن سے ایک انچ ، دو انچ اور 3 انچ کے متعدد کنکشن لیکر پانی کی غیر قانونی فروخت کر رہے تھے ۔

اینٹی تھیفٹ سیل نے 8 ستمبر کو ہی منگھو پیر کے علاقے غازی گوٹھ میں آپریشن کیا جہاں پر سب انجنیئر محمد ارشاد علی ولد اشرف علی نے دیگر افسران و پولیس کے ہمراہ آپریشن کیا تو اجتماع گاہ روڈ ، نیو ناظم آباد کی دیوار کے ساتھ پانی چور 24 انچ کی لائن سے 6 انچ کا کنکشن لیکر پانی چوری کر رہے تھے ۔

واٹر بورڈ کی ٹیم کو دیکھ ملزمان فرار ہو گئے مقامی لوگوں کے مطابق کنکشن لینے والوں میں سلمان ، ابراہیم تھے ۔ جو پائپ لائن وہیں چھوڑ کر فرار ہو گئے ۔ جن کے خلاف محمد ارشاد کی مدعیت میں منگھو پیر تھانے میں مقدمہ نمبر 727 درج کر لیا گیا ہے جس میں 14A(i) اور 427 ، 430/34 لگائی گئی ہیں ۔

اینٹی تھیفٹ سیل کے انچارج عبدالواحد شیخ کا کہنا ہے کہ پانی چوروں کے خلاف ضلع غربی میں آپریشن جاری ہے اور جلد مذید آپریشن کریں گے جس کے لئے ڈی آئی جی ناصر آفتاب تعاون کر رہے ہیں اور اسپیشل نفری بھیج رہے ہیں ۔جس کی وجہ سے مافیا کے خلاف آپریشن کامیاب ہو رہے ہیں ۔

ان کا مذید کہنا تھا کہ ہم چیرمین واٹر بورڈ ، وائس چیئرمین واٹر بورڈ ، ایم ڈی واٹر بورڈ سمیت ڈی آئی جی ناصر آفتاب کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کے تعاون سے مذید پانی چوروں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا ۔