خاتون جج کو دھمکی دینے کا معاملہ: عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاتون جج کو دھمکیاں دینے سے متعلق توہین عدالت کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان پر فرد جرم عائد کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔

عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 رکنی بینچ نے کی، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، ان کے وکیل حامد خان اور دیگر وکلا عدالت میں موجود تھے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو توہین عدالت کیس میں معافی کا موقع دیا لیکن عمران خان نے ایک بار پھر غیر مشروط معافی مانگنے سے گریز کرتے ہوئے دھمکی دینے کے اپنے الفاظ پر پچھتاوے کا اظہار کیا۔

آج دوران سماعت چیف جسٹس اسلام ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اظہار رائےکی آزادی کے محافظ ہیں لیکن اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دے سکتے، دوران سماعت عدالتی معاونین مخدوم علی خان اور منیر اے ملک نےعمران خان پرتوہین عدالت کاکیس ختم کرنے کی رائے دی۔

دلائل سننے کے بعد عدالت نے توہین عدالت کی کارروائی سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا، عدالتی کارروائی میں 5 منٹ کا وقفہ کیا گیا جس کے بعد چیف جسٹس اطہر من اللہ نے محفوظ فیصلہ سنایا۔

فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ہم عدالتی معاونین کے مشکور ہیں ، دو ہفتے بعد 22 ستمبر کو عمران خان پر فرد جرم عائد کی جائےگی، عمران خان کا جواب تسلی بخش نہیں۔

عمران خان کے وکیل حامد خان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ سماعت کی عدالتی آبزرویشن سے مکمل اتفاق کرتا ہوں، عدالت کے سامنے مختصر گزارشات رکھنا چاہتا ہوں، ہم یہ معاملہ ختم کرنا چاہتے ہیں، عدالت نے ایک اور موقع دیا جس پر تفصیلی جواب داخل کرا دیا ہے، 21 اگست کی عدالتی آبزرویشن پر تفصیلی جواب داخل کیا۔

حامد خان کا کہنا تھا عدالت نے سپریم کورٹ کے دو فیصلوں کا حوالہ دیا، یہ دانیال عزیز اور طلال چوہدری کے عدالتی فیصلے تھے لیکن عمران خان کا کیس ان دو عدالتی فیصلوں کے تحت نہیں آتا، طلال چوہدری اور دانیال عزیز کیسز عمران خان کیس سے بہت مختلف ہیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ توہین عدالت تین طرح کی ہوتی ہے جسے فردوس عاشق اعوان کیس میں بیان کیا گیا، ایک جوڈیشل توہین عدالت اور ایک فوجداری توہین عدالت، دانیال عزیز اور طلال چوہدری کے خلاف کرمنل توہین عدالت کی کارروائی نہیں تھی، ان کے خلاف عدالت کو اسکینڈلائز کرنے کا معاملہ تھا، ان تین عدالتی فیصلوں کا حوالہ دینے کا مقصد تھا، ایک سول توہین عدالت ہے۔