دہلی کے مسلمانوں کو ولن ثابت کرنے کی تیاری

انتہا پسند بھارتیوں نے نئی دہلی کے معصوم مسلمانوں کو ولن ثابت کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں.

بھارت کے انتہا پسندوں‌نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئر پر ایک ٹرینڈ بنایا جس میں زیادہ تر تصاویر مسلمانوں کے خلاف شائع کرنا شروع کردیں.

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دہلی میں مسلم کش فسادات میں چند ہندو بھی مارے گئے ہیں لیکن مرنے والوں میں زیادہ تر حکومت مخالف مظاہرہ کرنے والے مسلمان شامل ہیں.

بھارت میں متنازع شہریت قانون سامنے آنے کے بعد مسلمانوں سے ان کی شہریت ثابت کرنے کے لیے کارڈز دکھانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے.

اسی وجہ سے مسلمان سراپا احتجاج ہیں اور ان کے اس احتجاج کو دبانے کے لیے پہلے مودی سرکار نے پولیس اور انتظامیہ کا سہارا لیا، لیکن جب اس قانون طریقے سے بات نہ بنی تو گجرات کا قاتل اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا.

بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی ذیلی جماعت آر ایس ایس کے غنڈوں کا سہارا لینا شروع کردیا.

پہلے یہ آر ایس ایس دہشت گرد مظاہرین پر حملے کر رہے تھے لیکن اب یہ مسلمانوں کے گھروں‌ میں‌ گھس کر انہیں قتل کر رہے اور ان کی املاک کو نقصان پہنچارہے ہیں.

مسلمانوں کی املاک کا قتل عام کرنے اور ان کی املاک کو نذر آتش کرنے کے بعد ہندو انتہا پسندوں نے سوشل میڈیا پر مسلمان مخالف پروپگینڈا شروع کردیا ہے.

سوشل میڈیا پر ایک انٹیلی جنس افسر کی موت کا ذمہ دار ایک مسلمان کو قرار دیا جارہا ہے، اس کے بعد پوری مسلم کمیونٹی پر الزامات کی بہتات ہوگئی.

سوشل میڈیا پر انتہاپسندوں کے حامی صارفین مسلمانوں کو ہر فساد کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں جس میں دیگر مقامی چینلز بھی پیش پیش ہیں.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *