ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر علامہ محمد اقبال کا مرثیہ

ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کا لکھا مرثیہ جو لاہور کے ایک ماتمی جلسہ میں پڑھا گیا۔

یہ مرثیہ مطبع خادم التعلیم میں چھپ کر شائع کیا گیا تھا۔ اس کے چند اشعار

آئی ادھر نشاط ادھر غم بھی آ گیا
کل عید تھی تو آج محرم بھی آ گیا

صورت وہی ہے نام میں رکھا ہوا ہے کیا
دیتے ہیں نام ماہِ محرم کا ہم تجھے

کہتے ہیں آج عید ہوئی ہے ہوا کرے
اس عید سے تو موت ہی آئے خدا کرے

تو جس کی تخت گاہ تھی اے تخت گاہ دل
رخصت ہوئی جہاں سے وہ تاجدار آج

اے ہندتیرے سرسے اُٹھا سایہ خدا
اک غمگسار تیرے مکینوں کی تھی گئی

ہلتا تھا جس سے عرش یہ رونا اسی کا ہے
زینت تھی جس سے تجھ کو جنازہ اسی کا ہے

(باقیات اقبال صفحہ 92-74 طبع دوم 1966ء)