وڈھ کے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کے فقدان سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر

کوئٹہ : وڈھ شہر کے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ کلاس رومز، بجلی ، پانی اور عملہ کی کمی سمیت افسران کی عدم توجہی کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہیں۔

گورنمنٹ بوائز ہائی سکول وڈھ میں دو سال پہلے منظور شدہ کلاس رومزکی تعمیر تاحال مکمل نہیں ہو سکی۔ ٹھیکیدار نے کام کو ڈور بینڈ تک لا کر روپوشی اختیار کر لی ہے اور 6 ماہ سے کام بند پڑا ہے۔ سکول میں 800 سے زائد طلباء کو بیٹھنے اور تعلیم حاصل کرنے کیلئے جگہ نہیں۔ سکول میں باقاعدہ امتحانی ہال بھی موجود نہیں۔

50 سال پرانی و خستہ حال عمارت بارشوں کے بعد چھت سیپیج اور لیکیج کی وجہ سے بیٹھنے لائق نہیں رہتی ۔ پانی کی شدید قلت ہے سکول بور کا سبمرژسیبل کئی ہفتوں سے خراب ہے۔ سکول کی چار دیواری انتہائی خستہ اور پست ہے تین بار چاردیواری کے مختلف حصے گر گئے ہیں۔

مذید پڑھیں : پاکستان میں سب سے زیادہ کرپشن کیچ بلوچستان میں ہوتی ہے : رابطہ کمیٹی کیچ

ایک بار ایک حصے کے گرنے سے باہر موجود مویشی ملبے تلے آگئے تھے۔ کسی بھی وڈھ کسی بڑی نقصان کے خطرے کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ سکول کے عقبی جانب چار دیواری کی بلندی محض 4 فٹ ہے جس سے کوئی بھی پھلانگ کے سکول میں داخل ہوسکتا ہے۔ سیکیورٹی کے پیش نظر سکول غیر محفوظ ہے۔

گورنمنٹ گرلز مڈل سکول سرداری شہر وڈھ میں تمام طالبات کیلئے 3 فنکشنل کلاس روز ہیں ۔ سکول کیلئے 5 سال پہلے کلاس رومز کی تعمیر شروع کی گئی تھی جوکہ تاحال نامکمل ہے۔ سکول میں تاحال بجلی کی سہولت میسر نہیں طالبات شدید گرمی میں بغیر بجلی کے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

اسکول کو واٹر کنکشن تک نہیں جس سے بچے پانی پی سکیں۔ مڈل سکول کیلئے 5 ٹیچرز کا عملہ ہے جس کی وجہ سے تدریسی عمل شدید متاثر ہے۔ حکام بالا کی جانب سے تعلیمی ادارے یکساں طورپر نظر انداز ہیں اور سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات نہیں ہورہی ہیں ۔