جامعہ اردو 20 برس میں چھٹا مستقل وائس چانسلر مدت سے پہلے سے مستعفی

کراچی : جامعہ اردو کے وائس چانسلر انکوائری سے بچنے کے لئے سینیٹ اجلاس سے قبل ہی مستعفی ہو گئے ، سینیٹ اجلاس میں ان کے غیر قانونی اجلاسوں ، ان کے کئے گئے اخراجات کی ریکوری و فیصلوں سے متعلق انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ 20 برس میں 16 واں اور چھٹا مستقل وائس چانسلر مدت پوری کیئے بغیر واپس ہو گیا ۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ کی حکومت آتے ہی پاکستان آنے اور وائس چانسلر کا چارج لینے والے کینیڈین شہری پروفیسر ڈاکٹر اطہر عطا ایک ماہ 6 روز بعد کینیڈا چلے گئے تھے جہاں وہ یک طرفہ ٹکٹ سے زائد پیسے نکلوا کر لے گئے تھے ۔ جس کے بعد کینیڈا سے بیٹھ کر بعض اساتذہ کو بین الاقوامی جامعات میں مواقع فراہم کرنے کا لالچ دیکر آن لائن اجلاس کرتے رہے ہیں ۔جس کی وجہ سے اساتذہ تنظیمیں بھی خاموش رہی ہیں ۔

15 ستمبر کو سینیٹ کا اجلاس اسلام آباد ایوان صدر میں بلایا گیا تھا جس کے بارے میں تین روز قبل ہی وائس چانسلر کو کینیڈا میں اطلاع کر دی گئی تھی اور ان کے بعض حامیوں کی جانب سے انہیں پاکستان واپس بلانے کیلئے کہا گیا کہ آپ اجلاس میں آ جائیں کیوں سینیٹ اجلاس میں کمیٹی قائم ہو گی اور اردو یونیورسٹی میں کمیٹیاں قائم ہونا معمول کی بات ہے ۔

تاہم کینیڈین شہری اور WINNIPEG یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اطہر عطاء قانونی ماہرین سے مشاورت کی اور اس کے بعد پاکستان میں آکر شرمندگی اور بیرون ملک کی نوکری کے خوف سے سینیٹ اجلاس سے قبل ہی اپنا استعفی بذریعہ ای میل ایوان صدر اور سیکرٹری وفاقی تعلیم کو ارسال کر دیا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر نے بلا جواز چھٹیوں ، بھاری بھرکم تنخواہ ، من پسند تبادلوں ، تقرریوں کے خلاف باقاعدہ انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

واضح رہے کہ جامعہ اردو میں ایک بار پھر مستقل وائس چانسلر متنازعہ ہو کر از خود مستعفی ہو کر چلے گئے ہیں ۔ جامعہ کے قیام کے 20 برس بعد چھٹا مستقل وائس چانسلر تعیناتی سے قبل ہی متنازعہ بن گئے تھے ۔ جس کے بعد وہ ایک ماہ 6 روز بنفس نفیس اور ایک دے ڈیڑھ ماہ آن لائن وائس چانسلر تعینات رہ کر مستعفی ہو گئے ہیں ۔

مذید پڑھیں :جامعہ کراچی سلیکشن بورڈز ایکشن کمیٹی کا علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ دوسرے روز بھی جاری

جامعہ اردو میں 13 نومبر 2002 کو پہلے وائس چانسلر ڈاکٹر پیر زادہ قاسم رضا صدیقی ایک سال ایک ماہ 22 روز تعینات رہے، 7 جنوری 2004 کو آفتاب احمد خان جامعہ کے ناظم اعلی 8 ماہ 21 روز تعینات رہے، 30 ستمبر 2004 کو پروفیسر ڈاکٹر ڈاکٹر اقبال محسن تعینات ہوئے جو ایک سال 8 ماہ 9 روز تعینات رہے ۔

پروفیسر ڈاکٹر کمال الدین بطور انچارج 9 جون 2006 کو تعینات ہوئے جو ایک سال 8 ماہ 11 روز تعینات رہے، 22 جنوری 2008 کو ڈاکٹر قیصر اقبال تعینات ہوئے جو 5 سال مکمل کر کے گئے، یکم فروری 2013 سے 10 مارچ 2015 تک 2 سال 10 روز ڈاکٹر ظفر اقبال تعینات رہے، پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر (قائم مقام)11 مارچ 2015 سے 12 اگست 2015 تک 4 ماہ 29 روز تعینات رہے، پروفیسر ڈاکٹر سلیمان ڈی محمد (قائم مقام) 12 اگست 2015 سے 14 ستمبر 2017 تک 1 سال 9 ماہ 19 روز تعینات رہے ہیں ۔

جس کے بعد 7 دسمبر 2017 کو پروفیسر ڈاکٹر سیدالطاف حسین 8 ماہ قائم مقام رہے، جس کے بعد 10 اگست 2018 سے وہ مستقل وائس چانسلر کے طور پر ایک سال ایک ماہ اور 13 روز تعینات رہے ہیں، 7 جنوری 2020 سے 4 ماہ 28 روز قائم مقام تعینات رہے، پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق 17 ستمبر 2020 کو 6 ماہ کے لئے تعینات رہیں، جس کے بعد 16 مارچ 2021 کو دفتر شیخ الجامعہ کے طور پر ڈپٹی چیئر سینیٹ اے کیو خلیل نے چارج سنبھال لیا تھا جن کو 25 اکتوبر 2021 کو ہٹا کر سینیٹ اجلاس کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیا القیوم کو 14واں وائس چانسلر بنایا گیا تھا ۔

جس کے بعد 25 مئی کو ڈاکٹر پروفسیر اطہر عطا کو 15 واں وائس چانسلر بنایا گیا تھا جو ایک ماہ 6 روز تک یونیورسٹی میں موجود رہے جس کے بعد وہ بیرون ملک رخصت کی درخواست دیکر نکل گئے جس کے بعد 16 واں چانسلر 7 جولائی سے 16 جولائی تک نگران دفتر شیخ الجامعہ کے طور پر سینئر ڈین ڈاکٹر ضیاالدین تعینات رہے جس کے بعد اب جامعہ اردو اپنے قیام کے  بعد ایک بار پھر وائس چانسلر کی راہ دیکھ رہی ہے ۔