پاکستان میں سب سے زیادہ کرپشن کیچ بلوچستان میں ہوتی ہے : رابطہ کمیٹی کیچ

کراچی : پاک ایران بارڈر سے رابطہ کمیٹی کیچ نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ کرپشن بلوچستان و ضلع کیچ مین ہوتی ہے ۔

سب سے بڑی کرپشن سول انتظامیہ میں ڈپٹی کمشنر اور اے ڈی سی کیچ کرتے ہیں ۔

ڈپٹی کمشنر بشیر احمد بڑیچ اور اے ڈی سی تابش بلوچ پاک ایران کیچ بارڈر پر بھتہ خوری کرتے ہیں اور میگا کرپشن کرتے ہیں ۔ جن کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ گاڑی لگانے میں رات ہی رات کروڑوں روپے وصول کرتے ہیں ۔

کرپشن کے مرکزی کردار اے ڈی سی کیچ کی وجہ سے معاشی بد حالی اور امن و امان بھی دن بہ دن خراب ہو رہے ہیں ۔

مذید پڑھیں : لاڑکانہ میڈیکل یونیورسٹی کے 11 طلبہ پر اقدامِ قتل کے مقدمہ کی سفارش

علاقہ مکینوں نے وزیر اعلی بلوچستان سے اپیل کی ہے کہ سول انتظامیہ کی بارڈر پر کرپشن بھتہ خوری اور لوٹ مار کے عذاب کو عوام کے سر سے دور کیا جائے ۔ان کا کہنا ہے کہ ہم اعلی حکام کی توجہ کیچ میں کرپشن کی طرف متوجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں ۔

سول انتظامیہ کیچ ڈپٹی کمیشنر اور اے ڈی سی تابش بلوچ بارڈر پر کاروباری عناصر اور غریب عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔

ہم ملکی تمام احتساب کے اداروں سمیت اعلیٰ حکام ‛ صوبائی اور وفاقی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ پاک ایران بارڈر پر میگا کرپشن کرنے کا سرٹیفیکٹ ڈپٹی کمیشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کیج کو کس ادارے نے دیا ہے۔ جو دن رات بارڈر کاروبار اور غریب عوام کو لوٹ رہے ہیں ۔

مذید پڑھیں : طلبہ و والدین کیلئے خوشخبری ‛ سکول مالکان کیلئے اہم ہدایات جاری

ادھر رابطہ کمیٹی کیچ نے کہا ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ کیچ کی کرپشن پر تمام ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جس سے دن بہ دن امن وامان کی صورتحال اور تباہ ہو رہی ہے ۔

ملک دشمن عناصر ایک دفعہ پھر سر اٹھا رہے ہیں جبکہ انتظامیہ ‛ لیویز فورس بارڈر پر بھتہ خوری اور ہزاروں کی تعداد گاڑی لینگ میں مصروف ہے اور راتوں کے حساب سے ہفتے میں اربوں روپے کی کمائی کر رہی ہے ۔

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غریب عوام بارڈر پالیسیوں کے حوالے سے سول انتظامیہ سے نجات چاہتی ہے ۔ لہذا بارڈر سسٹم کو دوبارہ FC مکران سکاوٹ کو دیا جائے ۔