لاڑکانہ میڈیکل یونیورسٹی کے 11 طلبہ پر اقدامِ قتل کے مقدمہ کی سفارش

Larkana University

کراچی : شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ کے رجسٹرار عبدالروف خاصخیلی نے ایس ایس پی لاڑکانہ کو خط لکھ کر 11 میڈیکل کے طلبہ کیخلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کی سفارش کی ہے ۔

لیٹر کے مطابق طلبہ پر الزام ہے کہ انہوں نے وائس چانسلر سیکریٹریٹ پر مسلح ہو کر مبینہ طور پر حملہ کیا تھا ۔لیٹر میں لکھا گیا ہے کہ مشتعل و مسلح طلبہ نے وائس چانسلر کو گھر سے باہر نکالنے کا مطالبہ کیا اور اس دوران جامعہ کے اساتذہ کو بھی زدوکوب کیا ۔

رجسٹرار یونیورسٹی نے 11 طالبعموں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے لکھے گئے خط میں ایس ایس پی لاڑکانہ کو عدالتی حکم کا بھی حوالہ دیا ہے کہ پولیس براہ راست مدد کر سکتی ہے اس لیئے آپ لاڑکانہ کے رحمت پور پولیس اسٹیشن کو پابند کریں کہ وہ ذاتی دلچسپی لیکر طلبہ کو گرفتار کریں اور ایف آئی آر درج کریں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آصفہ ڈینٹل کالج اور چانڈکا میڈیکل کالج کے 11 طالبعلموں نے وائس چانسلر سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاج کیا تھا جس کو اب حملے کا نام دیکر دیگر طلبہ کی آواز کو دبایا جا رہا ہے ۔ تاہم طلبہ کا احتجاج کرنے کا طریقہ کار اور وقت قطعاً درست نہیں تھا ۔جس کی وجہ سے ان پر مقدمہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے جب کہ ان طلبہ کا ریکارڈ ماضی میں بھی پولیس کے مطابق درست نہیں ہے ۔ تاہم ان کے مطالبات درست ہیں ۔

 

یونیورسٹی کے رجسٹرار عبدالروف خاصخیلی کا اس حوالے سے ایس ایس پی سے ذاتی طور پر رابطہ ہوا تھا اور ایس ایچ او کے تعاون نہ کرنے کی شکایت بھی لگائی تھی ۔

ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ لاڑکانہ یونیورسٹی اور اس کے متعلقہ کالجز اور ہاسٹلز گزشتہ بارش کے دوران غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے گئے تھے ۔ جس کی وجہ سے لاڑکانہ یونیورسٹی کے ایک ہاسٹل میں چانڈکا اسٹاف کالونی کے بارش متاثرین عارضی طور پر اپنی فیملیز کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں جب کہ دیگر اسٹاف کالونیوں کے مکین دوسرے محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں کیونکہ کالونیوں میں پانی جمع ہے جس سے ایک نوجوان بھی جاں بحق ہو چکا ہے ۔

مذکورہ ہاسٹل میں رہائش پذیر طلبہ نے اپنی رہائش کیلئے پہلے ماروی ہاسٹل کے سامنے احتجاج کیا تھا ۔ جس کے بعد معاملہ کشیدہ صورتحال اختیار کر گیا تھا ۔جس کے بعد طلبہ احتجاج کرتے ہوئے وائس چانسلر سیکریٹریٹ کے گیٹ پر آ گئے تھے ۔

مذید پڑھیں : رپورٹنگ ڈائری || جامعہ اردو میں ہو کیا رہا ہے ؟

رجسٹرار نے الزام عائد کیا ہے کہ لاڑکانہ سیکیورٹی اسٹاف کی جانب سے وائس چانسلر سیکریٹریٹ گیٹ نہ کھولنے پر برابر میں رہائیش پذیر پروفیسر امر گربخشانی پر تشدد کیا گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے ان طلبہ کیخلاف وائس چانسلر کو قتل کرنے کی دفعات لگا کر مقدمہ درج کرایا جا رہا ہے ۔

جن طلبہ پر مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے ان میں BDS بیج 10 کے طالب علم عرفان عزیز ‛ ایم بی بی ایس بیج 46 کے وقاص کھوسو ‛ اویس دھانی ‛ صداقت گھمب ‛ یار محمد کلہوڑو ‛  ایم بی بی ایس بیج 47 کے طالبعلم فرمان علی کھوسو ‛ ایم سجاد علی مری ‛ عمر آرائیں ‛ ابراہیم سومرو ‛ بیج 48 کے سجاد پہنور اور بیج 49 کے وکیل جھاکھرانی شامل ہیں ۔

واضح رہے کہ مذکورہ تمام طلبہ کے پاس رہائش نہیں ہے کیونکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ کے ہاسٹلز پر قبضہ ہو چکا ہے یا افسران کی مرضی سے سیلاب متاثرین رہائش پذیر ہو گئے ہیں ۔