منکرین ختم نبوت کو جب کافر قرار دیا گیا

تحریر: مولانا جہان یعقوب

اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے،تمام تراندرونی وبیرونی خطرات اورہرقسم کے دباکونظراندازکرتے ہوئے 7ستمبر 1974 کو اس نازک مسئلے کے حتمی فیصلہ کی تاریخ مقرر کردی۔ چھ اور سات ستمبرکی درمیانی رات بارہ بجے کے بعد مسلمانوں کا مطالبہ تسلیم کرلیا گیااور اگلے دن 7ستمبر کو ڈھائی بجے رہبر کمیٹی کا اورساڑھے چار بجے قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا،

انجام کاربحث وتمحیص کے بعد تمام حاضر اراکین کے اتفاق سے مسلمانوں کا مطالبہ منظور کرکے جھوٹے مدعی نبوت مرزاغلام احمدقادیانی کے پیروکارمرزائیوں کے احمدی اورلاہوری دونوں گروپوں کودائرہ اسلام سے خارج قراردے دیاگیا۔

حزب مخالف سے مولانا شاہ احمد نورانی نے اسی موقع پریہ تحریک بھی پیش کی کہ پاکستانی ہونے کہ حیثیت سے ان لوگوں کو مکمل انسانی وشہری حقوق دیے جائیں۔یہ قراردادبھی کثرت رائے سے منظورکرلی گئی۔یوں علمائے کرام کی کوششوں،قوم کے اتحاد و اتفاق
اور حکمرانوں کی توجہ سے یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو گیا۔

مسلمانان پاکستان کو شایدکبھی اتنی مسرت نہیں ہوئی ہوگی، جتنی کہ اس خبر سے ہوئی کہ سرزمین پاک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کو آئینی تحفظ فراہم کردیاگیاہے۔عالم اسلام نے اس جرا ٔت مندانہ فیصلے پرپاکستانی عوام،علماورحکمرانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

مزید پڑھیں:سرسید یونیورسٹی کیجانب سے سیلاب ذدگان کا امدادی سامان ٹریفک پولیس کے سپرد کردیا گیا

قادیانی دجل اور ایک صائب مشورہ
آئینِ پاکستان کی رو سے قادیانی،احمدی،لاہوری مسلمانوں والا کلمہ پڑھنے، مسلمانوں والی مساجد بنانے، مسلمانوں والی اذان دینے اور مسلمانوں کے قبرستانوں میں اپنے مردے دفنانے کی قانونا ًاجازت و اختیار نہیںرکھتے ہیں۔

البتہ انھیں آئین کے مطابق غیرمسلم اقلیتوں کے حقوق ضرور حاصل رہیں گے۔ ہندو، سِکھ، عیسائی وغیرہ نے اپنی غیرمسلم اقلیتی حیثیت کو نہ صرف تسلیم کررکھا ہے، بلکہ آئین میں درج اپنے اقلیتی حقوق حاصل کرتے ہوئے امن کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، قادیانی بھی اپنی اس اقلیتی حیثیت کو تسلیم کرلیں توانہیں بھی دوسری اقلیتوں کی طرح تمام شہری حقوق دیے جائیں گے۔

قادیانی رہتے ہوئے اپنے آپ کومسلمان ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں یہ دین میں بھی بے جا مداخلت ہے جسے مسلمان ہرگز ہرگزہرگز برداشت نہیں کرسکتے اور یہ آئین ِ پاکستان کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے،جس پر یہ سزا کے مستحق ہیں۔ اب پاکستان میں کسی بھی عہدے کے حلف نامے میں رسالت ماب نبیﷺ کی ختم نبوت کا اقرار ضروری ہے۔ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے فارمز میں بھی اس کی نشان دہی کا کالم رکھا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:جامعہ کراچی سلیکشن بورڈ کے انعقاد کیلئے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ میں اساتذہ کی گہما گہمی

قادیانیوں نے اس قانون کو روزِاول سے آج تک تسلیم ہی نہیں کیا ہے اور اپنے آپ کو غیرمسلم اقلیت ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، اپنے آپ کو احمدی مسلمان کہتے ہیں۔حالانکہ یہ وہی غیرمسلم جماعت ہے جس نے تقسیم ہند کے وقت اپنے آپ کو غیرمسلم قرار دے کر ضلع گرداسپور کو پاکستان کے حصے میں نہیں آنے دیا۔

اسی طرح چوہدری ظفراللہ قادیانی نے، جو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ تھا یہ کہہ کر بانی پاکستان محمد علی جناح ؒکا جنازہ نہیں پڑھا تھاکہ یا تو مجھے مسلم حکومت کا ایک کافر وزیر تسلیم کرلیا جائے یا غیرمسلم حکومت کا ایک مسلمان وزیر۔ جب خود انہوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ منوایا ہے تو اب مسلمان کہلوانے کا کیا جواز ہے؟ مسلمان تو وہ ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ نبی مانتاہے، نہ مجددا و رنہ ہی مصلح۔وہ نبی و مجدد و مصلح تو کیا، ایک انسان بھی کہلانے کا مستحق نہیں۔

قادیانی اور احمدی کہلوانے وا لے فتنہ پرور اور اپنی زبان کی مٹھاس سے سادہ لوح مسلمانوں کو بہکانے اور عقیدہ ختمِ نبوت سے متنفر کرنے میں پوری طرح مصروف ِعمل ہیں۔

1۔قادیانیوں کا پہلا مقصد کسی بھی مسلمان کے دل میں ختمِ نبوت سے متعلق شک کے بیج بونا ہوتا ہے ۔ اس مقصد کے لیے مذکورہ بالا آیت کی اس طرح سے تشریح پیش کرتے ہیں کہ تشریعی نبوت کا سلسہ بند ہو چکا ہے جبکہ غیر تشریعی نبوت کا سلسلہ جاری و ساری ہے ،حالانکہ اگر ایسا کچھ معاملہ ہوتا تو قرآن اور مستند احادیث میں ضرور اس کی کوئی توجیہ موجود ہوتی۔جس مسلمان کے دل میں ختمِ نبوت سے متعلق شک و شبہ پیدا ہوا ،سمجھ لیں کہ اُس کا ایمان لٹ گیا ؛اور ایک قادیانی کی سب سے بڑی کوشش یہی ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں:تحریک لبیک کے زیر اہتمام 6ستمبر کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد

2۔ دوسرا موقف،جو قادیانی فتنہ گروپ اختیار کرتا ہے، وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کو مرزا غلام قادیانی ملعون کے نبوت کے جھوٹے دعوے کے ساتھ جوڑتے ہیں۔حالانکہ قرآن ِ کریم اور حدیثِ مبارکہ سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالی نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا تھا اور وہ قربِ قیامت میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو بھی یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور دجال اوریاجوج ماجوج کے فتنے کے بعدہوگا، جبکہ مرزا کوجولوگ مسیح موعود منوانے پر تلے ہوئے ہیں اُن سے پوچھاجائے کہ مرزا کے دور میں کون سا دجال نکلاتھایاکون سا یاجوج ماجوج کا فتنہ نمودار ہوا تھا،جس کے مقابلے کے لیے مرزا کو مسیح موعود بننا پڑا۔

قادیانیوں کا اگر اصرارہے کہ ہم مسلمان ہیں توہمار ااُن کو صائب مشورہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات، اس کے بتلائے ہوئے نظریات و عقائد پر لعنت بھیجیں اور صدق دل سے محمد رسول اللہ ﷺ کا کلمہ پڑھ لیں، مسلمان ہوجائیں گے۔

واضح رہے کہ مسلمان بننے اور رہنے کے لیے محمد عربی ﷺ کی ختم نبوت پر زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے جھوٹے مدعی ٔنبوت سے نفرت ، اس کی تغلیط اور اس کے کفرکے اعلان کی بھی ضرورت ہے۔