پاک بھارت جنگ کا آغاز

تاریخ پاکستان: پاک بھارت جنگ ٭4 ستمبر 1965ء کی شام پاکستان کے سیکریٹری خارجہ عزیز احمد کو ترکی سفیر کے توسط سے ترکی میں متعین پاکستانی سفیر کا ایک پیغام سائفر (Cypher) کی شکل میں موصول ہوا۔ اس پیغام میں اطلاع دی گئی تھی کہ بھارت 6 ستمبر کی صبح‘ پاکستان پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ عزیز احمد نے یہ پیغام وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو تک پہنچا دیا۔ مگر ان دونوں نے ضابطے کے برخلاف اس پیغام کی نقل صدر مملکت تک نہیں پہنچائی۔ ان کا خیال تھا کہ ارشد حسین اپنے کمزور اعصاب کے باعث حسب معمول گھبراہٹ کا شکار ہوگئے ہیں۔ مگر 6 ستمبر 1965ء کی صبح‘ بھارت نے واقعی پاکستان پر حملہ کردیا۔ بھارتی افواج بغیر کسی الٹی میٹم‘ بغیر کسی انتباہ اور بغیر کسی باضابطہ اطلاع کے بین الاقوامی سرحد عبور کرچکی تھیں اور لاہور کی جانب بڑھ رہی تھیں۔اسی دوپہر صدر مملکت فیلڈ مارشل ایوب خان نے قوم سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے دس کروڑ عوام جن کے دل کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کی آواز کے ساتھ دھڑک رہے ہیں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک بھارتی توپیں ہمیشہ کے لیے خاموش نہ کردی جائیں۔ اور پھر یہی ہوا بھی۔ یہ تاریخی جنگ ہماری مسلح افواج اور ہماری باحوصلہ قوم نے بڑی یکجان ہوکر لڑی۔ ایک جانب پاکستان کی مسلح افواج نے سازو سامان اور نفری دونوں لحاظ سے اپنی سے بڑی قوت کو پسپا کردیا تو دوسری طرف پاکستانی قوم نے اپنے اتحاد سے دشمن کو لرزہ براندام کردیا۔ ان سترہ دنوں میں اہل پاکستان نے من حیث القوم‘ باہمی محبت‘ ملی عزت و حمیت‘ جرات اور احساس نفس کے کندن کو وقت کی کسوٹی پر پرکھا اور اس آزمائش میں ہر طرح پورے اترے۔ ستمبر 1965ء کی جنگ پاکستان کی تاریخ کا ایک تابناک باب بن چکی ہے۔