فیسوں میں اضافے اور SZABUL میں خلاف ضابطہ بھرتیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج

کراچی : شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء میں فیسوں میں اضافے اور غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف طلبہ سراپا احتجاج بن گئے ۔

پیپلز پارٹی کے بانی رہنما شہد ذوالفقار علی بھٹو کے نام پر قائم ہونے والے قانون کی یونیورسٹی میں ہی غیر قانونی کاموں کے خلاف کوئی اور نہیں بلکہ قانون پڑھنے والے طلبہ ہی سراپا احتجاج ہو گئے ہیں ۔

پیر کو طلبہ کی بڑی تعداد یونیورسٹی کے گیٹ کے باہر جمع ہوئی ، اور یونیورسٹی میں غیر قانونی بھرتیوں ، فیسیوں میں بے پناہ اضافے اور ہاسٹل جیسی بنیادی سہولت سے طلبہ کو محروم رکھنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی بھی کی ۔

طلبہ کے مطابق یونیورسٹی میں غیر قانونی بھرتیاں کی جارہی ہیں ۔ یہ پاکستان کی پہلی لاء یونیورسٹی ہے جس میں ہاسٹل جیسی سہولیات سے طلبہ محروم  ہیں ۔

طلبہ کے مطابق یونیورسٹی میں کینٹن جیسی سہولت سے بھی طلبہ محروم ہیں ، 2022 کی میرٹ لسٹ میں سفارش پر سیٹس بیچ دی گئی ہیں  ۔ 50 سیٹس میرٹ پہ جب کہ سیلف فنانس پہ 80 سیٹس ہیں ۔

مذید پڑھیں : جامعہ کراچی اساتذہ کی بھوک ہڑتال کل سے شروع ہو گی

واضح رہے کہ ایک طرف سندھ میں موجودہ تباہ کن صورتحال درپیش ہے اور دوسری جانب مختلف شہریوں سے کراچی آ کر قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے ساتھ غیر قانونی سلوک روا رکھا جا رہا ہے جس کے خلاف طلبہ خود میدان میں آ گئے ہیں ۔

نمائندہ الرٹ کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا ” کے طلباء کی جانب سے رات گئے تک احتجاجی سلسلہ جاری رکھا گیا تھا ۔طلبہ کا مطالبہ تھا کہ موجودہ صورتحال میں امتحانات ملتوی کئے جائیں بصورت دیگر احتجاج جاری رہے گا ۔

معلوم رہے کہ شہر میں واحد سرکاری قانونی کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم بیشتر طلباء کا تعلق محنت کش طبقے سے ہے ، جو پہلے ہی سندھ میں سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں، انہیں امتحان میں بیٹھنے پر مجبور کرنا قابلِ تشویش صورتحال ہے ۔