ہیروں کی منڈی

تحریر: غلام شبیر منہاس

ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ کے گاوں للیانی میں عصر کے بعد کا سورج کوہ سلیمان کے عقب میں غروب ہونے جا رہا تھا۔۔جب مجھے ایک بابا جی ملے۔۔جو اس کھوج میں تھے کہ
میکوں بس اتنا ڈسا دیئوو اے کیڑے ملک دے طلباء ہن جو اناں علاقیاں وچ مدد کریندے ودہن۔۔

اور میں انکو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ فرشتوں کیطرح سفید شرٹس پہنے دن رات ملک بھر کے سیلابی علاقوں میں خدمت خلق میں مصروف عمل یہ نوجوان اپنے پاکستان کے بیٹے ہیں جن کا تعلق "مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ” سے ہے۔۔

میں نے بابا جی کو یہ بھی سمجھانے کی اپنے تئیں پوری کوشش کی کہ ان کے قائدین بھی آپکو اسی پانی میں شلوار گھٹنوں تک چڑھائے، کسی ادھ گرے درخت کے نیچے ٹیک لگائے، کسی سامان کے گودام میں کپڑوں کا ایک گٹو سر کے نیچے رکھے ، کسی کشتی میں، کسی گدھا گاڑی پہ یا کمر تک کھڑے پانی میں راشن کندھوں پہ رکھے نظر آیئں گے۔۔مگر بابا جی رانا زیشان سے لے کر سردار مظہر تک۔۔۔نہ تو جانتے تھے اور نہ پہچان سکتے تھے۔۔اس لیئے میں نے اس پہ بہت زور نہیں دیا۔ البتہ ان کا اصرار سے پوچھے جانے والے سوال کا جواب دینے کی پوری کوشش کی۔

مزید پڑھیں:پروفیسر ڈاکٹر معظّم حیدر کا ایک اور اعزاز

بابا جی مسلسل یہ جاننے کی خواہش رکھتے تھے کہ یہ طلباء تنظیم ان کے فارغ التحصیل ہونے کے بعد انکو کیسے کارآمد پاکستانی بناتی ہے۔۔
وقت چونکہ میرے پاس بھی زیادہ نہیں تھا اور تھکاوٹ بھی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی تھی۔۔

سو میں نے بابا جی کو محسن خان عباسی کی وہ ویڈیو دکھا دی جس میں وہ ایوان صدر میں منعقدہ ایک تقریب میں صدر پاکستان جناب ڈاکٹر عارف علوی سے ایچیومنٹ ایوارڈ وصول کر رہے تھے۔۔
پتر ای کونڑ ایں۔۔

بابا جی۔۔میں نے پسینہ صاف کرتے ہوئے عرض کی۔۔یہ بھی اسی تنظیم کا ایک سپوت ہے۔۔۔جو کارکن سے مرکزی ناظم تک گیا۔۔۔اور اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کے بعد اس سسٹم نے اس کو ایسا کندن بنا دیا تھا کہ یہ 2008ء میں PSG گروپ آف کمپنیز کا چیرمین بنا۔ اور اس پیارے پاکستان کو مستقبل کا ایک ایسا تصور اور ویثزن دے ڈالا کہ جس میں پائیدار شہر، صحت مند ماحول اور خوشحال معاشرہ کا تصور پنہاں تھا۔۔

مزید پڑھیں:تربیت سے تعلق کس چیز سے ہے ؟

اس عظیم جدوجہد میں اس نوجوان نے تنکا تنکا جوڑ کر ایک تاج محل کھڑا کر دیا۔۔۔جس کے نتیجہ میں 2021ء میں محسن خان عباسی کو فخر خیبر پختون خواہ ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ کچھ ہی روز پہلے چیمبرز آف سمال ٹریڈرز اینڈ انڈسٹریز کے زیراہتمام صدر ہاوس میں منعقدہ تقریب میں صدر پاکستان صدر عارف علوی کے ہاتھوں ایچیومنٹ ایوارڈ وصول کیا۔۔

یہ صرف ایک مثال ہے بابا جانی۔۔۔ ورنہ اس سسٹم نے ان گنت ایسے ہیرے تراش کر خاموشی سے ریاست کے حوالہ کر دیئے جو آج مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کارہائے نمایاں سرانجام دے رہے ہیں۔۔

بابا جی اٹھے۔۔۔مجھے گلے لگایا۔۔بوسہ دیا۔۔۔اور مجھے یوں محسوس ہوا کہ پورے دن کی تھکاوٹ رفوچکر ہو گئی۔۔۔بابا جی مجھے شاید اسی تنظیم کا کوئی کارکن یا عہدیدار سمجھ رہے تھے۔۔جبکہ میں دل ہی دل میں مسکرا رہا تھا کہ ہماری ہنگ لگی نہ پھٹکڑی اور رنگ خواہ مخواہ میں آتا جا رہا ہے۔۔