جنگ ستمبر اور غیور عوام کا کردار

پاکستان آرمی

ایک طرف تو پاکستان کی تینوں مسلح افواج ہر محاذ پر برسر پیکار تھیں اور پاک فوج نے ملک کی سرحدوں کا دفاع باوقار انداز میں مؤثر بناکر دنیا کو بتا دیا تھا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں تو دوسری طرف اُن افواج کو حوصلہ بڑھانے اور جذبات کو تقویت عطا کرنے میں پاکستان کے غیور عوام کا بھی نہایت اہم کردار تھا۔

وہ اپنی مسلح افواج پر اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے لیے تیار تھے۔ لاہور کے عوام کو جب جنگ کی اطلاع ملی تو وہ تانگوں پر کھانا، اچار، کپڑے، سگریٹ غرض ہر وہ چیز ،جو اُن کی دسترس میں تھی، لے کر اپنے جوانوں کو دینے کے لیے سرحدوں کی جانب دوڑے۔ ہر شخص اپنے اپنے طریقے سے جنگ میں شامل ہونا چاہتا تھا، لوگ کھانے تیار کروا کر باڈرز تک بھیجوانے کی کوششیں کرتے تھے،ہرفرد سرحدوں کی حفاظت اور افواج کا ساتھ دینے کے لیے نکل رہا تھا اور ہر شہر میں جکہ جگہ زخمی جوانوں کے لیے خون کے عطیات دیے جا رہے تھے۔

جب فوجیں سرحد کی طرف جاتیں تو بچے بوڑھے، مرد اور عورتیں سڑک کنارے اُن کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگتے،ان کی مدد کے طریقے پوچھتے اورقوم کے نونہال جہاں سے فوج گزرتے دیکھتے، جذبۂ عقیدت سے سلیوٹ کرتے تھے۔شاعر ملی ترانے لکھ کر اپنے جذبوں کا اور گانے والے انھیں ترنم کے ساتھ پڑھ کراپنے جذبات کا اظہار کر رہے تھے۔

غرضیکہ پورا ملک اس جنگ میں شامل تھا، مگر کسی قسم کا خوف نہ تھا۔ عوام کی حفاظت کے لیے حکومت نے جو تدابیر بتارکھی تھیں،عوام دل وجان سے اُن پر عمل پیرا تھے ،چنانچہ بڑے، بزرگ بتاتے ہیں کہ جیسے ہی دشمن کے جہاز حملہ کرنے آتے تو فورا ًسائرن بجا دیے جاتے۔ عوام کو یہ ہدایت نامے جاری کر دیے گئے تھے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے وقت انھیں اپنی حفاظت کیسے کرنی ہے؟چنانچہ سائرن بجتے ہی افراتفری سی مچ جاتی اور گلی محلے میں لوگوں کی بھگدڑ، لوگ گھروں میں محفوظ حصوں جیسے :

سیڑھیوں کے نیچے، تہہ خانوں میں؛ اور اس مقصد کے لیے جگہ جگہ کھودی خندقوں میں کی جانب بھاگتے،غرضیکہ موقع کے اعتبارسے جو جگہ اس فوری افتادمیں محفوظ نظر آتی جلدی سے وہاں گھس جاتے،جولوگ گھر وںسے دُور ہوتے تھے،وہ قریبی خندقوں میں جاچھپتے تھے، جو اسی مقصد کے لیے ہر گلی محلے میں کھو دی گئی تھیں۔

آیات قرآنی کا ذکر اور درود و دعاؤں کا وِرد سب کے لبوں پر ہوتا۔ دشمن کے جہازوں کی پرواز اتنی نچلی ہوتی تھی کہ جیسے مکان کی چھتوں سے تھوڑا ہی اوپر ہوں۔ ایک سائرن ایمرجنسی شروع ہونے کا بجتا تھا اور دوسرا سائرن ہنگامی حالت ختم ہونے کا۔جب دوسرا سائرن بجتا تو زندگی پھر سے معمول کی طرف آنے لگتی تھی ،لوگ ایسے اپنے روزگار اور کاموں میں مصروف ہو جاتے، جیسے ابھی تھوڑی دیر پہلے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

رات کو بلیک آؤٹ کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کا ساسماں ہوتا، مجال ہے کہ کوئی روشنی جلا جائے، انتہائی ناگزیر ہوتا تو بھی بہت کم والٹ کے بلب استعمال کیے جاتے، سائرن بجتے ہی وہ بھی احتیاطاً گل کر دیے جاتے یا پھر کھڑکیوں، روشن دانوں پر کالے پیپر چسپاں کیے جاتے تاکہ روشنی کا باہر والے کو پتا ہی نہ چل سکے۔

غرضیکہ عوام کا ایک اپنا علیحدہ حب الوطنی کا جذبہ تھا، جو انھیں ایک نئی ہمت اور طاقت دیتا تھا۔ لوگ گھروں میں چھپنے کے بجائے چھتوں پر چڑھ کر اپنے جوانوں کو داد دیتے تھے، اس وقت میڈیا بھی غیرت مندی اور بہادری کا مظاہرہ کر رہا تھا اور جوانوں کو اپنی آوازوں کے ذریعے جوش و جذبہ دلا رہے تھے اور ترانے اور ملی نغمے نشر کیے جا رہے تھے اورہر طرف یہ نغمے سنائی دیتے تھے ؎

اے وطن کے سجیلے جوانو
میرے نغمے تمھارے لیے ہیں

اللہ اکبر اللہ کی رحمت کا سایہ توحید کا پرچم لہرایا
اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا
یاد کرتا ہے زمانہ انھی انسانوں کو
،روک لیتے ہیں جو بڑھتے ہوئے طوفانوں کو

جیوے جیوے جیوے پاکستان
،اے وطن پاک وطن، شاد وطن

وغیرہ!ساتھ ہی عوام فضا میں پاک فضائیہ کے شاہینوں کی کاروائیاں بھی دیکھتے تھے۔ الغرض اس جنگ میں ہماری قوم نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ آزمائش کی ہر گھڑی میں پاک فوج کے شانہ بشانہ ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔پاکستان کے باسیوں نے دشمن کی عددی برتری کی ماضی میں پروا کی ہے اور نہ ہی آئندہ کریں گے، بلکہ دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو ں گے۔ جنگ ستمبر 1965 کے دوران قوم کا جذبہ دفاع اپنے عروج پر تھا،اس کی وجہ یہ تھی کہ تب ہم ایک ہجوم نہیں ایک قوم تھے ۔

قوم پوری کی پوری اگر ایک ہو
رنگ سے نسل سے بے خبر، نیک ہو

یہ ایک ایسی لڑائی تھی جو سب نے اپنی اپنی جگہ لڑی ،سب نے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھیں۔فوج نے اپنا کردار ادا کیا،عوام نے اپنا،افراد نے اپناکردار ادا کیا تو اداروں نے اپنا کردار ادا کیا، کیونکہ یہ کسی فرد، قوم، جماعت، طبقے کی جنگ نہیں تھی قوم کی جنگ تھی، پاکستان کی جنگ تھی۔یہ حوصلوں اور جرأتوں کی جنگ تھی۔ اگر بھارت کے پاس کثیر تعداد میں اسلحہ و بارود تھا تو پاکستان کے غازی جذبۂ ایمانی سے سرشار تھے۔