نوشکی کا کوئی پُرسانِ حال نہیں !

جامعہ بنوریہ عالمیہ کے فاضل اور جامعہ کے شعبہ ابلاغ عامہ کے فعال طالبِ علم محمد عمران مینگل کا تعلق بلوچستان کے ضلع نوشکی سے ہے ۔ اِن کا علاقہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ یہ اپنے علاقے کے عوام کی حالتِ زار بتاتے ہیں تو بے اختیار آنکھوں سے آنسوٶں کی جھڑی لگ جاتی ہے ۔

نوشکی میں بھوک پیاس نے ڈیرے ڈالے ہوٸے ہیں ۔ انسانوں کے لیے سر چھپانے کی جگہ بچی ہے اور نہ جانوروں کے لیے ۔ اونچاٸی پر واقع اس علاقے تک نہ کوٸی اڑان بھرتا ہیلی کاپٹر پہنچا ہے اور نہ ہی کوٸی این جی او ۔ یہاں کی ہندو برادری یہاں کے لوگوں کے لیے واحد امید کی کرن بنی ہوٸی ہے جو تجارتی اعتبار سے مستحکم ہے اور کچھ نہ کچھ امداد کے علاوہ سستا سامان بھی مہیا کر رہی ہے ۔ دینی مدارس کے ریڈار میں بھی یہ علاقہ اب تک نہیں آیا ۔

محمد عمران مینگل دیوانوں کی طرح کوشش کر رہا ہے ۔ کبھی ایک مسجد کے باہر تو کبھی دوسری مسجد کے باہر اپنے علاقے کی ناگفتہ بہ حالت بتابتا کر لوگوں سے اپیل کرتا ہے ۔ کل بڑے مان سے ایک مسجد میں جمعہ پڑھانے جاتے ہوٸے کہنے لگا : استاد جی ! امید ہے ایک ٹرک سامان کا انتظام ہو جاٸے گا ۔ آج ملا، کارگزاری لی تو کہنے لگا : استاد جی ! سولہ ہزار روپے جمع ہوٸے ۔

مذید پڑھیں : کراچی میں قادیانی خاندان کے 19 افراد مسلمان ہو گئے

ایک این جی او نے کٸی دن آسرے پر رکھا ۔ اس امید پر یہ بھی ان کے کاموں میں جُتا رہا کہ چلو ! علاقے والوں کے لیے کچھ دیں گے ۔ اب جب دیکھا کہ اُن کے روٹ میں نوشکی شامل ہی نہیں تو امیدیں توڑ کر بیٹھ گیا ۔ ایک رفاہی ادارے سے امید لگاٸی ہوٸی تھی اُس نے بھی صاف جھنڈی دِکھا دی۔ ایک آدھ سے میں نے بھی بات کی اور ایک آدھ کے نمبر بھی دیے مگر اب تک نتیجہ صفر میں ہے ۔

دوسری طرف نوشکی میں عمران کا انتظار ہے کہ ہمارا بچہ شہر گیا ہے ہمارے لیے امداد لے کر آٸے گا مگر اِدھر صورتِ حال تسلی بخش نہیں۔ کراٸے بھی آسمانوں سے باتیں کر رہے ہیں۔ عمران اب بھی پر امید ہے۔ ہم میں سے جو اس نوجوان کا جتنا تعاون کر سکتا ہے ضرور کرے ۔

نیچے اس کا نمبر درج ہے : 03423822783