میں مسلمان کیوں؟ تیسری قسط

اسلام معتدل اور سہل دین

اللہ تعالٰی ہر زمانے میں انسانوں کی رہنمائی کے لئے انبیاء کرام اور کتب و صحائف کے ذریعے ان کی راہ نمائی کرتا رہا، جوں جوں انسانی مزاج میں سہل پسندی آتی گئی، اللہ تعالٰی احکام میں تخفیف کرتے رہے تاکہ بندگان خداوندی اس پر عمل کر سکیں۔ اللہ تعالٰی تو تسمیہ کے آغاز سے ہی اپنا تعارف رحمن و رحیم ہونے کے ناتے کراتا ہے اور پھر اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنی ذات کے لیے رحمت لکھ چکا ہے۔ ایک مہربان ذات کا کوئی حکم و قانون کیسے ظلم پر مبنی ہو سکتا ہے، اس لئے اللہ کی بھیجی ہوئی آخری شریعت و قانون بھی انسانی فطرت و عقل کے مطابق اور استطاعت کے موافق ہے۔

اسلام کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ یہ دین فطرت ہے۔ یعنی انسان کی فطرت سلیمہ جن چیزوں کا تقاضا کرتی ہے اسلامی تعلیمات اس کے عین مطابق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دین کو اللہ تعالٰی نے آسان رکھا کہ ہر ایک انسان کے لئے اس پہ عمل کرنا ممکن ہو، شریعت کا کوئی حکم ایسا نہیں جس انسانی قوت سے بالاتر ہو اور شریعت نے انسان کو اس کا مکلف بنایا۔ چنانچہ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالٰی فرماتے ہیں:
اللہ تعالٰی تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا چاہتا ہے اور تممارے لئے مشکل پیدا نہیں کرنا چاہتا۔ البقرہ:185
اور اللہ نے تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ الحج:78
اللہ تعالٰی کسی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ کی ذمہ داری نہیں سونپتا۔ البقرہ:286
النساء:28
اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کر دیا ہے، کوئی ہے سمجھنے والا؟ قمر:32
ان آیات کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شریعت مطہرہ کو اللہ تعالٰی نے عمل کے لیے نہایت آسان اور سہل بنایا اور صرف اسی حکم کا مکلف ٹھہرایا جو انسان کی طاقت میں ہو۔

سہولت کا آغاز
اس سہولت کا آغاز نبی کریمﷺ سے ہوتا ہے۔ چنانچہ وحی الہی کے نزول کے بعد نبی علیہ السلام نے ساری رات عبادت کا اہتمام کرنا شروع کر دیا جس سے آپ کے قدم مبارک سوج جاتے تو اللہ تعالٰی نے فرمایا:
ہم نے یہ قرآن تم پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم تکلیف اٹھاؤ۔ طہ:2

دوسرا نبی کریمﷺ کے واسطے سے اللہ تعالٰی نے اس امت کے لئے آسانی اور تخفیف کی۔ بعثت نبوی سے قبل یہودیوں کی سرکشی کی وجہ سے بہت سی حلال اشیاء کو بھی ان پر حرام کر دیا تھا، اسی طرح کچھ سختیاں اور پابندیاں یہود و نصاری خود گھڑ لی تھیں اور متعدد حلال کردہ اشیاء کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ ان تمام غیر ضروری سختیوں اور پابندیوں کا خاتمہ بھی نبی علیہ السلام کی بعثت کا ایک اہم مقصد تھا تاکہ ایک معتدل دین لوگوں کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے:
جو پیغمبر انھیں اچھی باتوں کا حکم دے گا، برائیوں سے روکے گا، اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور گندی چیزوں کو حرام قرار دے گا، اور ان پر سے وہ بوجھ اور گلے کے وہ طوق اتار دے گا جو ان پر لدے ہوئے تھے۔الاعراف : آیت 157

احکام میں سہولت:
سہولت کا مختصرا جائزہ لیا جائے تو احکام شریعت میں سب سے پہلا حکم نماز کا ہے۔ نماز کے لئے طہارت شرط ہے۔ طہارت کے حصول کے لئے اگر پانی میسر نہ ہو یا پانی کا استعمال نقصان دہ ہو تو پاک مٹی سے تیمم کی سہولت دی۔ نماز کھڑے ہو کر پڑھنے کی قدرت نہ ہو تو بیٹھ، لیٹ کر، اشاروں سے حسب قدرت پڑھنے کی سہولت دی اور حالت سفر میں نماز قصر کا حکم دیا۔ روزوں کے حکم میں تخفیف کرتے ہوئے بیماری اور سفر کی حالت میں رخصت دی، حج فرض ہونے کے بعد عمر کے کسی بھی حصے میں ادا کرنے کی سہولت دی، قربانی کے حکم میں تخفیف کر کے گوشت کھانے کی اجازت دی، مال غنیمت حلال کیا گیا اور مختلف کفارات میں سہولت دی۔

سہولت کا معیار اور غلط فہمی:
سہولت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر انسان جس کو چاہے سہولت سمجھ کر چھوڑ دے۔ اللہ تعالٰی چونکہ انسان کا خالق ہے اس لئے وہ انسانی کمزوری سے بخوبی واقف ہے، اس لئے جو معاملات بندوں کے لیے مشکل تھے اللہ تعالٰی نے خود ہی ان میں سہولت رکھ دی۔ سو اب سہولت کا معیار قرآن و سنت ہی ہے۔ نبی کریمﷺ نے امت کے علماء و مجتہدین کو دین میں نرمی کی تلقین فرمائی:
تم آسانی کرو اور تم تنگی نہ کرو۔ صحیح بخاری
اس سے مقصود یہ ہے کہ جو مسئلہ قرآن و سنت میں نہ ہو اس کو مستنبط کرتے ہوئے قرآن و سنت کے نظائر سامنے رکھ کر جہاں تک کسی حکم میں آسانی کی صورت ہو سکتی ہے، اس کو اختیار کیا جائے۔
ہمارے معاشرے میں دین بیزار لوگ جو علماء سے اجتہاد کا مطالبہ کرتے ہیں اس سے مقصود ہرگز شرعی اجتہاد نہیں ہوتا بلکہ ان کا گمان یہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس بھی پاپائے روم کی طرح مطلق اختیارات ہیں اور وہ جس طرح چاہیں شریعت کو بدل کر سہولت پیدا کر سکتے ہیں لیکن کرتے نہیں۔ جبکہ اس تصور کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے، کوئی بھی ایسی سہولت اختیار کرنا جائز نہیں جو شریعت کے مسلمہ اصول سے ٹکراتی ہو۔

اسلام کے مد مقابل کوئی ایسا مذہب نہیں کہ جس کی تعلیمات اس قدر سہل ہوں کہ کر آدمی بخوبی سرانجام دے سکتا ہو، بلکہ بعض مذاہب میں مقتدائیت کے مقام تک پہنچنے کے لئے انتہائی شرمناک ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسا حکم اللہ کا نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ اسلام جیسی معتدل اور اور آسان شریعت و قانون جس میں ہر دور کے ہر انسان کے مزاج کی رعایت ہو اور اس کے لئے شریعت پر چلنا آسان ہو، یقینا کسی مخلوق کا بنایا ہوا نہیں ہو سکتا بلکہ خالق کائنات کا ہی ہے جو تا قیامت آنے والے ہر قسم کے حالات و تغیرات اور انسانی مزاج سے بدرجہ اتم واقفیت رکھتا ہے۔
سخن سعدی