جامعہ اردو کے VC کو شوکاز دیکر سینیٹ کا اجلاس بلا لیا گیا

کراچی : وزیر تعلیم رانا تنویر نے جامعہ اردو کے وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر عطاء کی مسلسل غیر حاضری پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ان کے خلاف حتمی تادیبی کارروائی کیلئے سینیٹ کا اجلاس صدر پاکستان کی منظوری سے بلا لیا ہے ۔ اجلاس صدر پاکستان چانسلر اردو یونیورسٹی ڈاکٹر عارف علوی کی صدارت میں ایوان صدر اسلام آباد میں 15 ستمبر کو منعقد کیا جائے گا جس کا ایجنڈا تیار کر لیا گیا ہے ۔

گزشتہ روز دو ستمبر کو اسلام آباد وفاقی وزارت تعلیم و تربیت کے ڈائریکٹر جنرل ای اینڈ آر سہیل احمد ملک کے دستخط سے جاری ہونے والے لیٹر میں ہائر ایحوکیشن کمیشن میں 30 اگست کو ہونے والے اجلاس اور دو ستمبر کو ہی اردو یونیورسٹی کی انتظامیہ کو لکھے گئے خط کا حوالہ دیکر لکھا ہے کہ صدر پاکستان نے بحثیت چانسلر جامعہ اردو 15 ستمبر دن 11 بجے سے 12 بجے ایوان صدر میں سینیٹ کا اجلاس بلانے کی منظوری اور حکم دیا ہے ۔

وزارت کی جانب سے اس سینیٹ اجلاس کیلئے رجسٹرار کے بجائے ڈائریکٹر محسن عباس کو فوکل پرسن مقرر کر کے تمام سینیٹ اراکین کیلئے حکم دیا ہے کہ وہ کسی بھی حوالے سے ان کے رابطہ کریں اور انتظامیہ 8 ستمبر تک ان کے ذریعے اپنا ایجنڈا ، اجلاس کا طریقہ کار ، شروع کرنے کیلئے ڈرافٹ ، اجلاس میں شریک ہونے والوں کی یقینی حاضری سے آگاہ کرنا ، جامعہ کی صورتحال کے بارے میں بریف کرنا ، اجلاس کا ایجنڈا ، پاور پوائنٹ کی پرزنٹیشن تیار کریں گے ۔

مذید پڑھیں : کراچی میں قادیانی خاندان کے 19 افراد مسلمان ہو گئے

لیٹر کے مطابق اجلاس کے بعد اس کے منٹس صدر پاکستان سے منطوری کے بعد 5 روز میں تیار کر کے وزارت کو پہنچانے ہونگے ۔ معلوم رہے کہ جامعہ اردو میں 25 مئی کو مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر پروفیسر اطہر عطاء کو چارج دیا گیا تھا ۔ جس کے ایک ماہ 6 روز بعد 20 روز کی مبینہ رخصت لیکر کینیڈا اور امریکا کیلئے چلے گئے تھے ۔

بعد ازاں وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر نے ان کے رخصت لینے کے طریقہ کار پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی رخصت یکم جولائی سے 20 جولائی کے بجائے 7 جولائی سے 15 جولائی تک منظور کر کے 16 جولائی کو ہر صورت جامعہ میں حاضری یقینی بنانے کا تحریری نوٹی فکیشن جاری کیا تھا ۔

مذید پڑھیں : جامعہ اردو ملازمین کو رواں ماہ بھی بروقت تنخواہ نہ مل سکی

اس دوران سینئر ڈین آرٹس ڈاکٹر ضیاء الدین کو نگران دفتر شیخ الجامعہ کا چارج دیا گیا تھا ۔ تاہم 16 جولائی کو واپسی کے بجائے شیخ الجامعہ نے اردو یونیورسٹی کو آن لائن چلانے کا انوکھا سلسلہ شروع کر دیا تھا ۔

جس پر وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر نے ان کو رجوع بکاری کیلئے دو شوکاز لیٹر جاری کیئے اور اب حمتی و تیسرے شوکاز کیلئے سینیٹ کا اجلاس بلایا ہے تاکہ مسلسل غیر حاضر رہنے والے وائس چانسلر کیخلاف تادیبی کارروائی کی جا سکے ۔

حیران کن امر یہ ہے وائس چانسلر نے آن لائن یونیورسٹی چلانے کا انوکھا سلسلہ تو شروع کیا ہی ہے ساتھ ہی اعلی عہدوں پر خواتین افسران کی تعیناتیاں اور انہیں دہرے چارج دینے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ جونیئر کلرک سمعیہ بنت حاجی بخش رحیم کو 8 برس بعد مستقل کر دیا تھا ۔ سمعیہ بنت حاجی رحیم بخش 4 ستمبر 2014 سے جامعہ میں معاہداتی طور پر جونیئر کلرک تعینات تھی ۔

شیخ الجامعہ نے سلیکشن بورڈ میں بعض افراد کو نوازنے کیلئے اہل و مستحق افسران کی حق تلفی کرتے ہوئے لیٹر بھی جاری کرنے کا اعلان کیا تھا ۔

تاہم اب خیال کیا جا رہا ہے سینیٹ اجلاس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں ، سینیٹ اراکین اور وفاقی وزیر تعلیم کے افسران کی موجودگی میں آن لائن شرکت کرنے پر وائس چانسلر کو سخت سوالات اور قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور انہیں عارضی طور پر عہدے سے ہٹا کر انکوائری بھی کرائی جا سکتی ہے ۔