فیول ایڈجسٹمنٹ واپس نہ ہوا تو کاٹیج انڈسٹریز بند کر کے MA جناح روڈ پر دھرنا دیں گے : محمود حامد

کراچی : کراچی کی کاٹیج انڈسٹریز مالکان نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے کے الیکٹرک کے بلوں سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز اوور بلنگ اور دیگر ٹیکسز ختم نہ کیے تو وہ مجبورا  اپنے کارخانے بند کر کے ایم اے جناح روڈ پر دھرنا دیں گے .

اس بات کا اعلان آج کراچی پریس کلب پر  کاٹیج انڈسٹریز کے بڑے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے صدر محمود حامد نے کیا مظاہرے سے پلاسٹک مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے کامران یاسین جمال فرحان میمن مدثر حبیب صدر کوآپریٹو مارکیٹ کے رہنما محمد اسلم خان ، محمد ربان اور میر کرم علی تالپور روڈ ایسوسی ایشن کے رہنما دلاور خان اعوان اور دیگر نے خطاب کیا ۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے محمود حامد نے مطالبہ کیا کہ کے الیکٹرک کا لائسنس فوری طور پر منسوخ کیا جائے فیول ایڈجسٹمنٹ  چارجز سیل ٹیکس دیگر ٹیکسیز ختم کیے جائیں   انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے نرخوں میں سلیپ سسٹم بھی ختم کر کے تمام یونٹس کے یکساں ریٹ مقرر کئے جائیں ۔

مذید پڑھیں : کراچی میں قادیانی خاندان کے 19 افراد مسلمان ہو گئے

محمود حامد نے کہا کہ کے الیکٹرک کی لوٹ مار اب ناقابل برداشت ہو چکی ہے بجلی کے بل تاجروں پر بجلی بن کر گر رہے ہیں تین تاجر بھاری بلوں کی رقم  دیکھ کر ہارٹ اٹیک سے مر چکے ہیں اخراجات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ لوگ بجلی پٹرول اور مہنگائی کی وجہ سے اپنے معصوم بچوں کو قتل کر کے  خود کشیاں کررہے ہیں پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے  دھرنے اور احتجاج کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ۔

انہوں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرنے کی بھرپور مذمت کی اور اس کی واپسی کا مطالبہ کیا مظاہرین نے کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرو فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز واپس لو کے الیکٹرک چور ہے غریب کا چولہا جلنے دو معیشت کا پیا چلنے دو کے فلک شگاف نعرے لگائے اور مظاہر کے بعد پرامن طور پر منتشر ہو گئے ۔