جامعہ کراچی لائبریری ڈیپارٹمنٹ میں کمپیوٹر لیب کی چھت گر گئی

کراچی : جامعہ کراچی کے شعبہ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس کی کمپیوٹر لیب کی چھت گر گئی ہے ۔ بایو کیمسٹری سمیت متعدد شعبہ جات کی چھتیں اور راہداریاں بھی انتہائی مخدوش حالت میں ہیں ، جس پر انحنیئرنگ ڈیپارٹمنٹ سمیت کسی بھی شعبہ نے کوئی توجہ نہیں دی ہے ۔

گزشتہ روز جامعہ کراچی کے لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس ڈیپارٹمنٹ کی کمپیوٹر لیب کی چھت گر گئی ہے ۔ جس کی وجہ سے چھت کے ملبے تلے دو سے تین سپلٹ ایئر کنڈیشن اور 24 سے زائد کمپیوٹر اور دیگر متعلقہ سامان مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے ۔ جس کی وجہ سے جامعہ کو دہرے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ تاہم کلاس کا وقت نہ ہونے کی وجہ سے وپاں پر کوئی عملہ موجود تھا نہ ہی طلبہ کی آمد رفت کا سلسلہ تھا جس کی وجہ سے کوئی بھی جانی نقصان نہیں ہوا ہے ۔

اس حوالے سے لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس ڈیپارٹمنٹ کے انچارج فرحت حسین نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ یہ اچانک ہوا ہے ، ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ عمارت کی چھت گر سکتی ہے ۔ جس کی وجہ سے انجنیئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو کوئی خط نہیں لکھا تھا ۔

 

جامعہ کراچی کے متعدد شعبہ جات کی راہداریوں اور خود شعبہ جات کی بالائی چھتوں کی حالات نا گفتہ بہ ہے ۔ جس کی وجہ سے چھت کے گرنے سے کبھی بھی نقصان کا سامنا کیا جا سکتا ہے ۔اس حوالے سے ڈیپارٹمنٹس اور انجنیئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مکمل غفلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔

مذید پڑھیں : جامعہ اردو ملازمین کو رواں ماہ بھی بروقت تنخواہ نہ مل سکی

ادھر اپلائیڈ کیمسٹری کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد نے 8 جولائی کو بھی اس حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا ۔جس میں انتظامیہ کی توجہ مبذول کراتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اپلائیڈ کیمسٹری کراچی یونیورسٹی اولڈ بلاک میں خستہ حال چھت کسی بھی اندوہناک حادثہ کا سبب بن سکتی ہے ۔ قریب دو سو سے زائد طلبہ مارننگ ایوننگ میں یہاں ورکشاپ پریکٹس کی لیب کرتے ہیں ۔

 

انہوں نے مذید لکھا تھا کہ پوری چھت بارش سے نم ہے، جگہ جگہ سے پلستر اکھڑ چکا ہے، کئی جگہ سریا نظر آ رہا ہے، آئے دن چھت سے ملبہ گرتا رہتا ہے اور ڈر ہے کہ کسی روز ھورے بیرک کی چھت ہی نہ بیٹھ جائے ۔دس سال سے انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار یہ ورکشاپ گزشتہ سال چھت کی مرمت کے لیے ٹھیکہ دار کو دی گئی اور اس نے چار ہزار اینٹیں، 25 بوری سیمنٹ اور دو ڈمپر مٹی چھت پر چڑھا دی اور کام کیئے بغیر چلا گیا تھا ۔ اب یہ سارا وزن بیرکس کی چھت پر ہے ۔