امدادی رقوم خرد برد ہونے سے بچاکر اصل مستحقین تک پہنچائی جائیں:پاسبان

کراچی ( ) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے جنرل سیکریٹری اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ ہر پندرہ برس بعد سیلاب آتے ہیں، ہر آفت کے بعد دنیا سے بھیک مانگنے کے بجائے بچاؤ کے لئے منصوبہ بندی اور اقدامات کیے جائیں۔

آئی ایم ایف، امریکا، ترکی، آسٹریلیا اور چین سمیت بیرون ممالک سے ملنے والی امدادی رقوم خرد برد ہونے سے بچاکر اصل مستحقین تک پہنچائی جائیں۔ سیلاب متاثرین کے ساتھ ساتھ حکومت عوام کے لئے بھی ریلیف ممکن بنائے۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں، انتظامی اداروں کی نااہلی اور غفلت و لاپرواہی نے پورے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

مزید پڑھیں:جامعہ کراچی سلیکشن بورڈ ایکشن کمیٹی کے تحت اساتذہ کا یومِ سیاہ

مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ روزمرہ استعمال کی تمام اشیاء کی قیمتوں میں پچاس فیصدتک کمی کی جائے۔ جو اشیاء پاکستانی پیداوار ہیں انہیں ہرقسم کے ٹیکسز سے مستثنیٰ قراردیا جائے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز سے نہ ماضی میں عام آدمی کو کوئی ریلیف ملا ہے نہ ہی کبھی مل پائے گا۔

حکومت عام مارکیٹوں میں اپنی رٹ قائم کرے یا پھر یوسیز کی سطح پر سستے بازاروں کاقیام عمل میں لایا جائے جس سے شہریوں کو روزگار کی فراہمی بھی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ بیوپاریوں سے حکومتی سطح پر ڈیل کرکے عام مارکیٹوں میں سستی اشیاء کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے جائیں، تبھی مہنگائی کنٹرول کی جاسکے گی۔

غریب گھرانوں کو بھیک اور امداد کے بجائے باعزت روزگار فراہم کئے جائیں۔ بیت المال اور ذکوٰۃ فنڈ کی تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں۔ کتنا پیسہ بیت المال میں آتا ہے اور کتنی رقم ذکوٰہ کی مد میں بینکوں سمیت مختلف ممالک سے ملتی ہے؟ اس میں سے کتنی خرچ ہوئی؟ تمام تفصیلات سے قوم کو آگاہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں:سرکاری ملازمین کی تنخواہ کی کٹوتی کا شیڈول جاری

بیرون ممالک سے ملنے والی امدادکی رقوم ایمانداری سے اصل مستحقین تک پہنچانے کے لئے بندوبست کیا جائے۔ کرپشن ختم کر کے نیچے سے اوپر تک میرٹ نافذ کیاجائے۔

پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کے جنرل سیکریٹری اقبال ہاشمی نے مزید کہا کہ بے لگام مہنگائی نے غربت کے سیلاب کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ غلط معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافہ کا سونامی آیا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔

سفید پوش شہری بھوک و افلاس برداشت کرتے ہیں ایسے لوگوں کی امداد کرتے وقت بھی سفید پوشی کو برقرار رکھا جائے۔ ہر چیز کو ڈالر کی قیمتوں سے نہیں جوڑا جانا چاہئے۔ مہنگائی کے خلاف تمام مکاتب فکر کے علماء کرام،آئمہ کرام اور مفتیان کرام کے ساتھ،ا یماندار، محب وطن اور مخلص افسران پر مشتمل کمیٹیا ں تشکیل دی جائیں۔

مہنگائی کو فروغ دینے والوں کے خلاف فتوے جاری کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی روک تھام اور عوام کو سستی اشیاء کی فراہمی ممکن ہے مگر اس کے لئے مخلصانہ اقدامات کی ضرورت ہے