جامعہ سندھ کا ریسرچ لائبریری کو ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ

جامشورو : انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی جامعہ سندھ جامشورو کی جانب سے ریسرچ لائبرری میں رکھی ہوئی نایاب کتب، قلمی نسخوں و دیگر قیمتی مواد کو ڈجیٹائیز کر کے محفوظ بنانے اور جامعہ کی ویب سائیٹ کے ذریعے آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کیلئے سندھیالوجی اور ایم ایچ پنہور انسٹیٹیوٹ آف سندھ اسٹڈیز کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

اس سلسلے میں انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں ڈائریکٹر غلام مرتضیٰ سیال اور ڈائریکٹر ایم ایچ پنہور انسٹیٹیوٹ کے غلام سرور پنہور نے ایم او یو پر دستخط کیے۔ معاہدے کے مطابق انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی کی ریسرچ لائبریری میں موجود نایاب و انمول کتب، قلی نسخوں و دیگر قیمتی ریکارڈ کو ڈجیٹلائز کر کے محفوظ کیا جائے گا۔

معاہدے کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تجرباتی طور پر سندھیالوجی کی ریسرچ لائبریری کی 25 کتابیں اسکین کرکے انہیں کمپیوٹر کے ذریعے محفوظ کرنے کا کام سرانجام دیا گیا، جو کہ کامیاب رہا ہے۔

اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے ڈائریکٹڑ انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی غلام مرتضیٰ سیال نے کہا کہ ریسرچ لائبریری میں رکھا ہوا پرانا مواد مینوئل ہونے کی باعث آگے چل کر ضایع ہونے کا خدشہ ہے، جس کی وجہ سے اس کو ڈجیٹلائز کرکے جامعہ کی ویب سائٹ پر آن لائن جاری کیا جائے گا، اس سے دو فائدے ہونگے، ایک تو پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم محققین اور سندھ کی تاریخ و ثقافت سے دلچسپی رکھنے والے لوگ ان نایاب کتب و دیگر مواد تک باآسانی آن لائن رسائی حاصل کر سکیں گے ۔

دوم یہ کہ قیمتی نسخے بھی محفوظ ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا دنیا کے عالمی گاﺅں میں تبدیل ہونے کے بعد ریسرچ لائبریری کا انمول مواد بھی ڈجیٹلائز کر کے آن لائن کیا جا رہا ہے تاکہ علم دوست لوگوں، شاعروں، اسکالرز، مصنفین، تاریخدانوں، ماہر آثار قدیمہ اور ادیبوں کو فائدہ پہنچ سکے۔

انہوں نے کہا کہ انسٹیٹیوٹ کی لائبریری میں رکھی ہوئی کتب مختلف علمی موضوعات پر مبنی ہونے کے ساتھ انتہائی معلوماتی ہیں، جو کہ تحقیق میں کام آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کتابوں کو لائبریری کی الماریوں میں برسوں سے محفوظ کرکے رکھنے کا زیادہ فائدہ نہیں ہور رہا ہے، کیونکہ لائبریری میں صرف مطالعے کیلئے آنے والے لوگ ان کتابوں تک رسائی حاصل کرتے رہے ہیں، اب ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا میں کہیں بھی بیٹھے ہوئے افراد کو ان کتب تک رسائی مل جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ڈجیٹلائز کے بعد آن لائن ہونے والی کتب، قلمی نسخے اور دیگر مواد تک لوگ مفت میں رسائی حاصل کر سکیں گے، لیکن کوئی بھی فرد اس کی اشاعت نہیں کر سکے گا، کیونکہ ان کے حقوق صرف انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی کے پاس محفوظ ہیں۔ غلام مرتضیٰ سیال نے شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر (میریٹوریس) ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی منظوری کے بغیر مذکورہ منصوبے کی طرف بڑھنا آسان کام نہیں تھا۔

دوسری طرف ڈائریکٹر ایم ایچ پنہور انسٹیٹیوٹ آف سندھ اسٹڈیز غلام سرور پنہور کا کہنا تھا کہ مذکورہ معاہدہ ہونے سے انہیں دلی خوشی ہوئی ہیں، کیونکہ درحقیقت یہ سندھ کی خدمت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ ترقی یافتہ ممالک تیزی کے ساتھ کاغذ کو چھوڑ کر ڈجیٹل دنیا میں پہنچ چکے ہیں۔ اس لیے سندھ کے علمی و ادبی اداروں کو بھی جدید دور کی تقاضاﺅں کے مطابق چلنا ہوگا، یہی وجہ ہے کہ انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی نے اس کا آغاز کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر(میریٹوریس) ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو اور ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی غلام مرتضیٰ سیال مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب ڈائریکٹر سندھیالوجی کے بھرپور جذبے، لائبریری کو ڈجیٹل کرنے کی تڑپ اور تعاون کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی ثقافت، تہذیب، تمدن، تاریخ، شاندار ماضی و دیگر موضوعات پر مبنی کتب ڈجیٹائیز کرکے محفوظ کرنے سے ان کتب کی عمر کئی سال بڑھ جائے گی اور آنے والی کئی نسلیں ان سے مستفیض ہونگی ۔