ڈاؤ یونیورسٹی کی سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی

کراچی : ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے ۔

وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی کی ہدایت پر رواں ہفتے کے آغاز میں ہی امدادی اشیاء کے عطیات جمع کرنے کے لیے ابتدائی طور پر ڈاؤ میڈیکل کالج میں کیمپ قائم کر دیا گیا تھا. جبکہ اب دو اؤں اور امدادی اشیا ءکے عطیات جمع کرنے میں کیمپس کی تعداد بڑھ کر ایک درجن سے زائد ہو گئی ہے۔ جہاں طلبہ اساتذہ اور عام شہری بڑے پیمانے پر دوائی، پانی، کپڑوں سمیت دیگر امدادی اشیا کے عطیات جمع کر وا رہے ہیں۔

ڈاؤ یونیورسٹی کے مختلف کالجز نے اپنے عطیات میں ” ریوا” واٹر کی 600 ایم ایل کی سیکڑوں بوتلیں عطیہ کی ہیں۔ ڈاؤ کالج آف فارمیسی، ڈاؤ کالج آف نرسنگ، انسٹیٹیوٹ آف چیسٹ ڈیزیز ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال، ڈاؤ ڈینٹل کالج چنیسر گوٹھ ، سول اسپتال کراچی ، ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج سمیت دیگر شعبوں میں درجن سے زائد کیمپس قائم کر دئے گئے ہیں۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ضلعی انتظامیہ شرقی کی جانب سے قائم فلڈ کیمپس میں ڈاؤ کا نرسنگ اسٹاف تعینات ہے۔ آنے والے قافلوں میں شریک افراد کی جانچ پڑتال اور معائنے کے بعد بیمار افراد کو اسپتال پہنچایا جا رہا ہے. ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال میں اب تک سیکڑوں افراد کو طبی امداد دے کر فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ متعدد افراد مختلف وارڈز میں زیر علاج ہیں۔ حکومت سندھ کی جانب جب سے ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال کو مریضوں کے مفت علاج کی ہدایت کی گئی تھی جس سے سیلاب متاثرین استفادہ کر رہے ہیں۔

ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی کراچی تمام ماتحت کالجز، انسٹیٹیوٹ، اسکولز اور اداروں کے سربراہان سے سیلاب زدگان کیلئے امدادی سرگرمیوں کی مسلسل رپورٹ لے رہے ہیں۔پرو وائس چانسلر پروفیسر نصرت شاہ نے طلباء کو ہدایت کی ہے کہ رضاکارانہ خدمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ڈاؤ یونیورسٹی اپنے رضاکاروں کے ذریعے امدادی سامان متاثرین تک پہنچائے گی۔