مصیبت کی اس گھڑی میں ڈاکٹرز بھی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں، پروفیسر نصرت شاہ

کراچی: یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی پرو وائس چانسلر پر و فیسر ڈاکٹر نصرت شاہ نے کہا ہم بحیثیت میڈیکل پروفیشنل و اسٹوڈنٹ قوم کی اس مصیبت کی گھڑی میں قوم کے ساتھ کھڑے ہیں ہم سمیت زندگی کے مختلف طبقات سے افراد بھی انفرادی سطح پر ان کی مدد کے لیے نکلیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلے میں ڈاؤ میڈیکل کالج کےمعین آڈیٹوریم میں منعقدہ اور کراچی انٹر یونیورسٹی کوئز کمپٹیشن میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مزید پڑھیں:آج کل اساتذہ اپنی CV کو مضبوط کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں جبکہ انکی اصل CV شاگرد ہوتے ہیں۔ڈاکٹر خالد عراقی

اس موقع پر ڈاکٹر فواد شیخ اور کراچی بھر سے آئے ہوئے طلباء و اساتذہ بھی موجود تھے۔ پروفیسر نصرت شاہ نے کہا ویسے تو ہمیں خشک غذا کی اشیاء یا پانی راشن کمبل وغیرہ بھی دینے چاہیئیں مگر بطور میڈیکل پروفیشنل ہمیں دوائی اور ہیلتھ کیئر سے متعلق دیگر اشیاء بھی عطیہ کرنی چاہیے اور یہ تمام دیگر اشیاء ہم اپنے میڈیکل اسٹوڈنٹ کے ذریعے ہی سیلاب زدگان تک پہنچائیں گے۔

اپنے خطاب میں انھوں نے ڈائمنڈ جوبلی پر طلباء کی جانب سےدلچسپی لینےاور مقابلوں میں بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے پر مبارکبادباد پیش کی اور کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی کی میزبانی میں کراچی بھر کے طلباء نے ڈائمنڈ جوبلی کی تقریبات کے سلسلے میں پہلے تقریری مقابلہ اور اب کوئز کمپٹیشن منعقد کیا۔

مزید پڑھیں:مشکل کی اس گھڑی میں ہم سب کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے، سید شرف علی شاہ

پروفیسر ڈاکٹر نصرت شاہ نے کہا کہ اس مقابلے سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ڈاکٹر دیگر شعبوں میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیکل پروفیشنلز کو نہ صرف دوائیوں اور صحت سے متعلق بات کرنی انی چاہیے بلکہ ہمیں بزنس اور دیگر شعبوں پر بھی بات کرنا آنی چاہیے ۔

تقریب کے آخر میں انعام یافتہ طلبہ کا اعلان کیا گیا جن میں پہلا انعام جامعۃ الرشید کے طلباء احسن لودھی اور ابو قحافہ کودیا گیا اور دوسرا انعام ڈاؤ میڈیکل کالج کے طلباء زینت ہادی اور فیضان عابد کو ملا جبکہ تیسرا انعام کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے طلباء شرجیل عبدالخلیق اور محیط الحق کی ٹیم کو ملا۔ پروفیسر ڈاکٹر نصرت شاہ نے کامیاب طلبات میں انعامات تقسیم کیے۔