جامعہ کراچی : سلیکشن بورڈ تاخیر کیخلاف اساتذہ کا بھوک ہڑتال و یومِ سیاہ کا اعلان

کراچی : جامعہ کراچی کے اساتذہ نے سلیکشن بورڈز میں تاخیر کے خلاف ایکشن کمیٹی کے تحت جمعرات کو یوم ِ سیاہ منانے اور منگل کو علامتی بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے ۔ سلیکشن بورڈز شیڈول کے اجراء کے لیے اساتذہ کا احتجاج جاری رہے گا ۔

ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے جامعہ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اساتذہ کو ان کے جائز حق کی ادائیگی میں تاخیر برتی جا رہی ہے ۔ جس کے خلاف اساتذہ نے از خود انتظامیہ کو مجبور کرنے کیلئے جد و جہد کا آغاز کیا ہے تاکہ سلیکشن بورڈ میں غیر ضروری تاخیر کو روکا جا سکا ۔

پریس کانفرنس کے مطابق سلیکشن بورڈ کے لئے جامعہ کراچی نے 2019 میں مختلف شعبہ جات میں فیکلٹی کی اسامیوں کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں ، جس کی آخری تاریخ 30 جون 2019 دی گئی تھی ۔ تاہم تین برس سے زائد عرصہ گذر جانے کے باوجود 2019 کے اشتہار کے تحت کسی ایک شعبے میں بھی تقرری نہیں کی جا سکی ہے ۔

اس دوران اشتہار کی پراسسنگ اور اپنی ترقی کے منتظر ہمارے کئی اساتذہ ریٹائر ہو چکے ہیں اور چند ماہ میں مزید اساتذہ ریٹائرڈ ہو جائیں گا ۔ اشتہار پہ غیر ضروری تاخیر نے اساتذہ میں مایوسی کو جنم دیا ہے جس کی وجہ سے بعض اساتذہ نے سلیکشن بورڈ ایکشن کمیٹی کے تحت از خود جدوجہد شروع کی ہے ۔

اس ایکشن کمیٹی کے تحت وسط جولائی سے انتظامی بلاک کے سامنے ہفتہ وار احتجاج کا آغاز کیا گیا تھا ، جس میں اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی ۔ اس کمیٹی سے منسلک اساتذہ، سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کہ صرف سلیکشن بورڈ کے عمل کے التواء کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ۔

کمیٹی نے اس دوران سابق قائم مقام شیخ الجامعہ ، پروفیسر ڈاکٹر ناصرہ خاتون اور موجودہ شیخ الجامعہ، ڈاکٹر خالد عراقی سے پانچ ملاقاتیں کیں اور اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے اساتذہ کی بے چینی سے آگاہ کیا تھا ۔ جس میں شیخ الجامعہ نے اس عمومی تاثر کی نفی کی کہ سیکریٹری یونیورسٹی اور بورڈز سلیکشن بورڈز کے انعقاد میں رکاوٹ ہیں ۔

سابق اور موجودہ شیخ الجامعہ ایکشن کمیٹی کو مطلع کیا کہ سلیکشن بورڈ کے انعقاد کے سلسلے میں اسکروٹنی کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے ۔ تاہم حقیقتِ حال ماضی سے مختلف نہیں ہے اور اب تک کسی ایک شعبہ میں بھی بھرتی اور پروموشن کا عمل مکمل نہیں کیا جا سکا ہے ۔

معلوم رہے کہ جامعہ کراچی میں اشتہار پہ روایتی انداز میں کارروائی کے تین مراحل ہیں ، موصول کی گئیں درخواستوں کی اسکروٹنی، کرنا ، اہل امیدواروں کی درخواستوں کو بیرون ملک ماہرین کو بھیجنا اور پھر سلیکشن بورڈز کا انعقاد کرنا شامل ہیں ۔ اکثر شعبہ جات کی اسامیوں کا معاملہ ابھی پہلے مرحلے پہ ہی تاخیر کا شکار ہے اور موجودہ رفتار کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے اس اشتہار کو مکمل ہونے میں آٹھ دس سال مزید درکار ہوں گے ۔

حیرت انگیز طور پر یہ روایتی طریقہ کار جامعہ کراچی کے کوڈ اور ترمیمی بل 2018 سے مطابقت نہیں رکھتا اور یہ ایک غیر ضروری طور پہ اختیار کیا گیا عمل ہے ۔ جو اب اساتذہ کو ان کے جائز حق سے محروم رکھنے کا سبب بن رہا ہے ۔ خوف یہ ہے کہ اس اشتہار کی پراسسنگ کے دوران ہی اساتذہ کی ایک بڑی تعداد اپنی ترقی سے محروم رہتے ہوئے ریٹائر ہو جائے گی ۔

جامعہ کراچی کے کوڈ اور ترمیمی بل 2018 کے مطابق اسکروٹنی اور بیرون ملک ماہرین کو درخواستیں بھیجنے کا عمل قطعی طور پہ غیر ضروری ہے ۔ اسکروٹنی سلیکشن بورڈ کا کام ہے اور درخواستوں پہ رائے کا عمل سلیکشن بورڈ میں کیا جا سکتا ہے ۔ اسی طرح غیر ملکی ماہرین، خاص طور پہ ترقی یافتہ ممالک کی جامعات سے منسلک فیکلٹی سے درخواستوں کے جانچنے کے لیے consent لینا ، ایک مشکل تر امر بنتا جا رہا ہے ۔

اس کی ایک بڑی وجہ گذشتہ برسوں میں غیر ملکی ماہرین کے مشاہروں کی عدم ادائیگی ہے ۔ درخواستوں کا ڈوزئیر روایتی انداز میں پرنٹڈ یا اسکینڈ ہونا بھی ماہرین کو مشکل لگتا ہے کہ موجودہ دور میں تعلیمی و تحقیقی کارناموں کو ڈیٹا بیس سے منسلک کر کے ان کی جانچ کا عمل کیا جاتا ہے ۔

تاہم جامعہ کراچی میں موصول شدہ درخواستوں کی یہ صورتحال نہیں ۔ جس کی وجہ سے سلیکشن بورڈ کیلئے ایکشن کمیٹی اپنے مطالبات پیش کر رہی ہے ۔

مطالبات 

1) 2019 اشتہار کے لیے سلیکشن بورڈز کا شیڈول
2) سلیکشن بورڈ میں قانون کے مطابق 3 ایکسپرٹز کی شمولیت
3) اسکروٹنی کمیٹی و ریفری رپورٹز کا خاتمہ شامل ہیں ۔

ہمارا واضح مطالبہ ہے کہ جامعہ کے کوڈ اور ترمیمی بل 2018 کے تحت بتائے گئے طریقہ کار کے مطابق ماہرین کو بورڈز میں مدعو کیا جائے اور ان کی ماہرانہ رائے کو اساتذہ کے اپائنٹمنٹ یا ترقی میں مد نظر رکھا جائے ۔

سلیکشن بورڈ کمیٹی سے منسلک اساتذہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان سفارشات پہ عمل در آمد کے ذریعے 2019 کے اشتہار پہ تیزی سے کروائی کی جا سکتی ہے ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا احتجاج اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ اور ہمارے قانونی مطالبات پہ عدم عمل درآمد کی صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا جس کے لیے ہمارے لائحہ عمل میں

1)اساتذہ کی جنرل باڈی کے لیے دستخطی مہم
2) یوم سیاہ
3) بھوک ہڑتال
4) کلاسز کا بائیکاٹ شامل ہیں۔

اس سلسلے میں مزید پیش رفت سے بھی آپ حضرات کو آگاہ کیا جائے گا ۔