مدد کیسے کی جائے ؟

تحریر : سید عزیز الرحمن

جوں جوں تفصیلات سامنے آرہی ہیں رونگٹے کھڑے ہوتے چلے جارہے ہیں ان حالات میں بہت زیادہ منصوبہ بندی، کوآرڈینیشن اور باہمی تعاون کی ضرورت ہے ۔

2. اپنی مدد آپ کے تحت جہاں اب تک کروڑوں سے زائد رقم خرچ ہو چکی ہے وہاں بہت سہولت کے ساتھ اگر باہمی رابطے کی صورت بن سکے تو ایک سرسری سروے بھی کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت کون کون سے علاقے متاثر ہیں اور کس کس حوالے سے وہاں ضرورت موجود ہے۔

3. مثلا میرا سب سے زیادہ جو ضرورت وقت سامنے آرہی ہے وہ فوری طور پر چپلوں جوتوں مچھر دانیوں نیو خیموں اور خشک خوراک کی ہے اس فہرست کو مزید بہتر کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے تمام اداروں کا کسی ایک نکتے پر اتفاق ضروری ہے اور وہ نکتہ یہ ہے کہ جو شخص جہاں جس درجے میں اللہ کی توفیق پر کام کر رہا ہے وہ کرتا رہے لیکن دوسروں کو معلومات کی فراہمی میں کسی بخل سے کام نہ لے۔

4. کئی ایک جگہوں پر بے گھر افراد میں پکےپکائے کھانے کی تقسیم میں بھی ایک ہڑبونگ محسوس کی گئی ہے یعنی کچھ حصے میں ایک سے زائد افراد کھانا تقسیم کر رہے ہیں تو دوسرے حصے میں کوئی ایک شخص بھی اس مقصد کے لیے پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا یہ دشواری بھی باہمی رابطے کے ذریعے دور کی جا سکتی ہے۔

5. بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے ہیں لیکن ان بے گھر افراد کے نام پر بہت بڑی آبادی دیہاتوں سے بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی کر رہی ہے یہاں بھی اداروں کا کردار اہم ہے کہ وہ یہ جان سکیں کہ ان میں پیشہ ور کتنے ہیں اور اصل مستحقین کس قدر ہیں۔

6. کم ازکم کچھ دن کے لیے ہمیں اپنے تشہیر اور تصویر کا کمپلیکس ختم کر دینا چاہیے۔ہے تو بدگمانی کی بات لیکن صاف نظر آ رہا ہے کہ کچھ لوگ گھروں سے صرف اپنی سیلف پروجیکشن کی غرض سے نکلے ہیں ورنہ ان کا عملی طور پر کردار سفر سے زیادہ نہیں۔

7. بعض افراد دھڑلے سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ فلاں فلاں ادارے کو پورا نظام امداد دے دیا جائے تو ملک بھر میں جیسے کوئی انقلاب برپا ہو جائے گا۔ جناب صورتحال کی سنگینی محسوس کیجئے یہ اداروں کا تو کیا حکومتوں کے بھی کرنے کا کام نہیں ہے۔ کوئی ایک شخص تو یہ ذمے داری لینے کی قدرت ہی نہیں رکھتا حکومت کو بھی چاہیے کہ ایک فول پروف نظام قائم کرے اور تمام غیر حکومتی اداروں کو آن بورڈ لے کر اس کار خیر میں شریک کرے۔

7. اس موقع پر ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ کرپشن صرف حکومت کی پہچان نہیں من حیث المجموع ہماری قومی شناخت بن چکی ہے جس میں سرکاری ادارے تو ہمیشہ سے مطعون ہیں ہی، لیکن اگر غیر سرکاری اداروں کی کرپشن لوگوں کو معلوم ہو جائے تو وہ سرکاری اداروں کی کرپشن کو بھول جائیں۔ اس وقت معاملہ کرپشن کا نہیں اس وقت معاملہ ضرورت مند لوگوں تک پہنچنے کا اور ان کی ضرورت کی تکمیل کا ہے۔

کاش کہ ہماری یہ بات لوگوں کے دلوں میں اتر جائے اور کاش کہ ہم لوگ صورت حال کی سنگینی کو محسوس کر سکیں۔