سیلاب آتے کیوں ہیں ؟

تحریر : قاضی نصیر عالم

وجوہات بے شمار بتائ جاتی ہیں جو کہ فطری ہیں ۔۔
سوال یہ نہی کہ سیلاب کیوں آتے ہیں ؟؟؟
سوال یہ ہے کہ ان کے نتیجے میں تباہی کیوں آتی ہے ؟؟؟
اس سوال کا جواب ڈھونڈنا ہو تو یو ایس ایڈ کی آفیشل ویب سائیٹ پر جا کر امریکی امداد کے مصارف میں صرف کمبل،پلاسٹک رول اور واٹر فلٹر پلانٹ پر جو رقم خرچ ہوئ فقط اس کے کالم دیکھ لیں ۔۔۔آپ بھی تسلیم کریں گے کہ سیلاب سے تباہی کتنی ضروری ہے۔۔بتانا فقط یہ ہے کہ سیلاب اب منافع بخش ہر گز نہی رہے۔۔اور لوگ اسے عذاب سمجھنے پر بھی تیار نہی ۔۔
وقت بدل گیا ہے۔۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کی طرح سیلابوں سے روزی روٹی کمانے کا دروازہ بھی بند ہونے کو ہے ۔۔۔جتنا جلد ہو سکے اس کا ادراک کیجیے کہ کرونا کے بعد پوری دنیا کی معیشتیں خود ڈانوا ڈول ہیں اور ہم پر دونوں ہاتھوں سے امداد لٹانے پر آمادہ نہی ہیں۔

امریکی حکومت نے دو ہزار دس کے سیلاب میں ساڑھے چھیالیس کروڑ ڈالر کی امداد دی تھی۔۔ پرائیویٹ ڈونر ز ایجنسیز کی امداد اس کے علاوہ تھی اور وہ بھی کروڑوں ڈالر میں تھی۔۔۔اس سال دو ہفتہ پہلے ان کی طرف سے فقط ایک لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا گیا۔۔ پے در پے امداد کی اپیلوں کے بعد دو روز قبل ان کی طرف سے کہا گیا کہ “ہم اس صورتحال پر افسردہ ہیں”۔۔۔وہ کیا افسردہ ہوں گے جو ان کا جواب سن کر افسردگی ہمارے والوں پر چھائ ہے۔۔

یورپی یونین نے گزشتہ سیلاب میں سوا دو کروڑ یورو کی امداد دی تھی ۔۔اقوام متحدہ کے سیلاب فنڈ میں حصہ الگ تھا۔۔اس دفعہ ابھی تک ساڑھے تین لاکھ یورو کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔۔پانچ دس ملین اور آ جائیں گے۔

دو ہزار دس کے سیلاب میں مختلف ممالک کی طرف سے ہمیں لگ بھگ ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائد کی امداد میسر آئ تھی۔۔جس میں اقوام متحدہ کے توسط سے بھارت کی پچاس لاکھ ڈالر کی امداد بھی شامل تھی ۔۔اس دفعہ ہنگامی امداد کی اعلان کردہ رقم سے عالمی ہی ردعمل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔۔یہ امداد بہر حال بارہ سال پہلے والی ہر گز نہی ہو گی۔

اس لیے موسمیاتی تبدیلیوں کی رپورٹس کے مطابق حکمت عملی وضع کریں ۔۔جو چار پیسے ہاتھ آئیں وہ طویل المدت منصوبہ بندی پر لگائیں۔۔آفات کے نقصانات کم کیے جا سکتے ہیں۔۔اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہی۔۔۔