مہران اور اللہ بخش یونیورسٹی میں نان کیڈر OPS افسران کو ہٹانے کا عدالتی حکم

کراچی : سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ بینچ میں مہران انجینئرنگ یونیورسٹی اور اللہ بخش یونیورسٹی میں خلاف ضابطہ تقرریوں، ایڈیشنل اور ایکٹنگ چارج دینے، ریٹائرڈ افسران کو دوبارہ تعینات کرنے کے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کئے جانے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی ۔

جس میں دونوں یونیورسٹیوں کے رجسٹرار کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی تازہ رپورٹ 14ستمبر کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر ان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دیدیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ بینچ کےجسٹس محمود اے خان اور جسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے دونوں یونیورسٹیز میں ڈیپوٹیشن اور او پیایس پر تعیناتیوں، آؤٹ آف ٹرن پروموشن، ریٹائرڈ ملازمین واساتذہ کو ایڈیشنل وایکٹنگ چارج دینےکے خلاف عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کے کیس کی سماعت کے دوران مہران یونیورسٹی کے رجسٹرار لچھمن داس اور اللہ بخش یونیورسٹی کے رجسٹرار سلمان بھٹو پر عدالتی احکامات کے باوجود مکمل رپورٹ جمع نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے ۔

عدالت نے مہران یونیورسٹی کی جانب سے پیش کردہ ریکارڈ مسترد کرکے آخری وارننگ دیتے ہوئے 14ستمبر کو ریکارڈ سمیت دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا ہے ۔

درخواست گذاروں نے اس موقع پر کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی ہے ابھی تک اساتذہ، من پسند ملازمین غیرقانونی طورپر عہدوں پر تعینات ہیں، گریڈ ایک اور 2 کے ملازمین کو غیر قانونی طورپر گریڈ 17 اور 18 میں ترقیاں دی گئیں جن میں رجسٹرار مہران یونیورسٹی لچھمن داس خود بھی شامل ہیں ۔

عدالت نے اس موقع پر گریڈ 5 میں تقرر ہونے والے لچھمن داس سے مختلف عہدوں پر تقرری اور گریڈ 20 میں ترقی پر سوالات کیئے اوران کے جواب اور ترقیوں پر حیرانی کا اظہار کیا ۔