سیلاب سے ایک ہزار سے زائد ہلاکتیں،  سندھ کو پھر سیلاب کا سامنا، بلوچستان میں تاحال بجلی بند

ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں جہاں بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا کے علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

بلوچستان سے آنے والے سیلابی پانی کا دباؤ بڑھنے کے بعد سندھ کو پھر سیلاب کا سامنا ہے، ادھر ضلع دادو کی تحصیل میہڑ کی آخری ڈیفنس لائن سپریو بند میں 30 فٹ چوڑا شگاف پڑگیا، ریلے میہڑ کی طرف بڑھنے لگے جس سے 100 سے زائد دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

پانی کا دباؤ کم کرنے کے لیے حکومت سندھ نے جوہی کنال میں شگاف ڈال دیا، سیلاب جوہی شہر سمیت 60 دیہات کو متاثر کرے گا۔

کنڈیارو کے قریب دریائے سندھ میں طغیانی سے زمیندارہ بند ٹوٹ گیاجس سے پانی بکھری میں داخل ہوگیا، سانگھڑ کے قریب سیم نالے کا شگاف پر نہ کیا جا سکا جس سے پانی سانگھڑ شہر کی جانب بڑھنے لگا اور کئی دیہات زیر آب آ گئے، علاقے میں پاک نیوی کا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

میرپورخاص میں جھڈو کے قریب روشن آباد پران ندی میں شگاف پڑگیا جس سے سیلابی ر یلے بدین کی جانب بڑھنے لگے۔

3 فٹ پانی بھرنے سے ڈیرہ مراد جمالی جیل کے 180قیدی سبی منتقل کردیے گئے اور ڈیرہ اللہ یار جیل ناقابل استعمال قرار دی گئی ہے جب کہ سینٹرل جیل مچھ کی گیس، پانی اور بجلی منقطع ہے۔

کراچی، کوئٹہ، بولان اور جیکب آباد قومی شاہراہ بند

کراچی، کوئٹہ، بولان اور جیکب آباد قومی شاہراہ بند ہے جب کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کا رابطہ بھی بحال نہیں کیا جاسکا ہے، کوئٹہ تفتان ایران شاہراہ تین روز بعد بحال کی گئی ہے۔

بجلی کے ٹاورزگرنے سے بلوچستان کے 27گرڈ اسٹیشنوں کوبجلی کی فراہمی معطل ہے جہاں خضدار، قلات، سوراب، مستونگ، نوشکی، چاغی اورخاران کے اضلاع کوبجلی کی فراہمی معطل ہے جب کہ لورالائی، ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین اور چمن میں بھی بجلی کی فراہمی کے مسائل ہیں۔ کوئٹہ میں شدید لوڈشیڈنگ، بجلی، گیس اور موبائل فون سروس کی معطلی سے شہری پریشان ہیں۔

چارسدہ میں سیلاب سے ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد بے گھر

خیبر پختونخوا کے شہروں سوات،ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، نوشہرہ اور چارسدہ میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں جہاں چارسدہ میں دریا کنارے واقع آبادیاں ڈوب گئيں، ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوگئے، متاثرین کی بڑی تعداد پشاور موٹر وے پر پناہ لیے ہوئے ہے۔

کوہستان میں سیلابی ریلا گزر گيا لیکن تباہی کی داستانیں چھوڑ گيا، ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی پانی ہی پانی ہے، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی آنے لگی۔

دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ

سیلابی ریلے پنجاب میں داخل ہونے سے میانوالی میں جناح اور چشمہ بیراج کےمقام پر دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

انتظامیہ کےمطابق دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ جاری ہے جہاں 36 گھنٹوں میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔

فلڈ کنٹرول روم کے مطابق ندی نالوں کے سیلاب سے 7 لاکھ ایکڑ رقبہ شدید متاثر ہوا ہے، سیلاب سے 3 لاکھ 50 ہزار ایکڑ زرعی رقبے کو نقصان پہنچا۔

فلڈ کنٹرول روم کا بتانا ہےکہ سیلاب سے 2 لاکھ 15 ہزار افراد شدید متاثر ہوئے ہیں، سیلاب سے26 ہزار گھروں کو نقصان ہوا ہے، سیلاب سے فاضل پور اور تحصیل روجھان کو شدیدنقصان پہنچا، انڈس ہائی وے روڈ اوردیگر سڑکیں ٹوٹ گئی ہیں، راجن پور، سندھ اور پنجاب انڈس ہائی وے 11 روز بھی بند ہے۔