ابابیل !

تحریر: علی ہلال

2001ء کے بعد امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی ممالک نے دنیا بھر میں بائیس سو سے زائد اسلامی ٹرسٹس، فلاحی تنظیموں، انجمنوں اور قدرتی آفات میں متاثرین کی امداد کرنے والے اداروں کو بینڈ کیا۔ ان اداروں میں پاکستان ،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اورقطر سمیت کئی ممالک کے ادارے شامل ہیں۔

ان پر دہشت گردی میں ملوث ہونے یا سہولت کاری کا الزام لگاکر نشانہ بنایا گیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تنظیمیں انسانیت کی سب سے بڑی خدمت گر تھیں۔ جن ممالک میں سرکاری ادارے زیادہ فعال نہیں ہوتے تھے یہی خیراتی ادارے آگے بڑھ کر ریسیکو کرتے تھے۔

انسانیت کے یہ بے لوث سپاہی ہمیں کبھی الخدمت کی شکل میں نظر آگئے۔ کبھی جمعیت اہلحدیث کی شکل میں ۔ کبھی الاختر اور الرشید کی شکل میں۔ مگر ان کا کام بے مثال تھا۔ ان اداروں کے ساتھ دینی جامعات بھی دہشت گردی کے ناسور کا نشانہ بن گئے۔

مغرب کے پاس قانون کی عملداری ہے۔ نظام ہے۔ ٹیکنالوجی ہے مگر اسلام کے زکاۃ ،صدقہ اور تبرعات کے نظام کے ساتھ اخلاص اور اخوت کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی سسٹم نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان ممالک میں مہلک غربت اورجان لیوا بھوک کم ہی پھیلتی ہے۔

آپ کو نیویارک جیسے شہر میں مفت میں ایک گلاس پانی نہیں ملتا۔ آپ افغانستان میں مغربی فورسز کے ساتھ محاذ جنگ پر خدمات دینے والے افغان ترجمانوں کو امریکہ میں کھانے کی کمی کا شکوہ کرتے دیکھو گے۔ مگر اس ملک کی سڑکوں پر بیٹھے فقیر کے اگے دھری تھالی خالی نہیں ہوتی۔ یہاں خیر آج بھی موجود ہے۔

مزید پڑھیں:عارف یوسف جیوا کو FPCCI کے انتخابات برائے سال 2023 میں سینئر نائب صدر کا امیدوار بنانے کے لیے کوششیں جاری

آج جب ملک ایک بار پھر طوفانی بارشوں اور سیلاب کی لپیٹ میں ہے آپ کو دارالعلوم کراچی ،جامعہ بنوریہ، بیت السلام، جے یو آئی،جماعت اسلامی الخدمت اور مرکزی جمعیت اہل حدیث سمیت متعدد دینی ومذہبی تنظیمیں سرگرم نظر آرہی ہیں۔

یہ وہ سادہ لوح تنظیمیں ہیں جو لسانیت، فرقہ واریت، سیاسی و نظریاتی وابستگیوں کے جھروکوں سے نہیں بلکہ انسانیت کے زاویہ سے انسانوں کو دیکھتی ہیں۔

یہ مغربی این جی اوز کی طرح بسکٹ کی پیکٹ دینے کے لئے دوپٹے نہیں اترواتیں اور نا ہی ویڈیوز کی شرط رکھتی ہیں۔ یہ ان ایمبولینس اور پالنے مافیا سے بھی مختلف ہیں جو سڑک پر ایڑھیاں رگڑتے زخمیوں کی جیب تلاشی کو ہر خدمت پر مقدم سمجھتی ہیں۔

یہ تنظیمیں پاک فوج کے بعد سب سے زیادہ منظم انداز میں کام کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔ قدرتی آفات میں فوج کے شابشانہ رہنے کا سہرا صرف انہیں کے سر ہے۔ یہ بلا کسی مبالغے کی "يؤثرون علي انفسهم” کی عملی تفسیر ہیں۔ یہ لوگ بجاطور پر قابل قدر ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی اور ان سے تعاون کی ضرورت ہے۔