دکھ کی گھڑی میں ہم سیلاب متاثرین کیساتھ کھڑے ہیں لیکن سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے جبری کٹوتی مسترد کرتے ہیں، پروفیسر منور عباس

سندھ پروفیسرز اینڈ لیکررز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر پروفیسر منور عباس، مرکزی سیکرٹری جنرل پروفیسر شاہجہاں پنھور سمیت دیگر مرکزی رہنماوٴں نے اپنے ایک پریس بیان میں ملک بھر خاص کر کے صوبہ سندھ اور بلوچستان میں حالیہ بارشوں کی تباہ کاریوں پر غم کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان بارشوں سے بہت تباہی مچی ہے لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں، مال مویشی اور فصلوں کا نقصان اسکے علاوہ ہے، ان متاثرین میں سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:کراچی: انٹر بورڈ نے ملتوی ہونے والے پرچوں کی نئی تاریخوں کا اعلان کر دیا

ہم اس دکھ کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سپلا کے رہنماؤں نے حکومت کے اس فیصلے جس میں گریڈ ایک سے سولہ تک کی دو روز اور اس سے اوپر گریڈ والے سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے پانچ روز کی جبری کٹوتی کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے اس ظالمانہ فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

سپلا کے رہنماؤں نے تنخواہوں سے جبری کٹوتی کے ظالمانہ فیصلے پر اپنا سخت ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین مریخ پہ نہیں رہتے انہیں طوفانی بارشوں سے لاکھوں سرکاری ملازمین بھی شدید متاثر ہوئے ہیں، لہذا ان کی تنخواہ سے کٹوتی بہت بڑی زیادتی ہوگی۔

سپلا کے رہنماؤں نے حکومتِ سندھ پر واضح کیا کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو سخت احتجاج کیا جاۓ گا۔ سپلا کے رہنماؤں نے کالج اساتذہ کو امدادی کاموں میں حصہ لینے کی اپیل کرتے ہوئے مخیر حضرات کے تعاون سے سپلا رلیف فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔