ریٹائرڈ فوجی افسران ،ججز اور بیورو کریٹس سے فراڈ کرنے کیخلاف FIA کی تحقیقات تیز

کراچی : ایف آئی اے نے ریٹائرڈ فوجی افسران ،ججز اور بیورو کریٹس سے اسٹاک مارکیٹ میں انوسمنٹ کے نام پر فراڈ کرنے والے ملزمان کے کروڑوں روپے مالیت کے 36 رہائشی و کمرشل پلاٹس کا سراغ لگا لیا ۔

اسٹاک مارکیٹ میں سرکاری افسران سے رقم وصول کر کے شیئرز خریداری کے بجائے کراچی کے پوش علاقوں میں رہائشی و کمرشل پلاٹ خریدے گئے ،اسٹاک ایکسچینج اور ایس ای سی پی میں بننے والی تحقیقاتی ٹیموں نے میسرز رائل سیکورٹیز پرائیوٹ لمیٹیڈ کو فراڈ قرار دیا ، سرکاری افسران سے فراڈ کے ذریعے کروڑوں رپے حاصل کرنے والے ملزمان میں میاں بیوی اور دو بھائی شامل ہیں ،ملزمان کا مقدمہ ملیر کینٹ تھانے سے ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں منی لاندرنگ کی تحقیقات کے لئے منتقل کیا گیا تھا ۔

ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے درخواست گزار زرتش احمد اور امجد پرویز کی درخواست پر شروع ہونے والی انکوائری نمبر 40/2019میں درج کئے مقدمہ الزام نمبر07/2022میں ملزمان عمران خان ولد محمد ریاض ،رضوان ریاض ولد محمد ریاض اور عاطف شبیر ولد شبیر احمد کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں 36کمرشل ورہائشی پلاٹس و بلڈنگ کا سراغ لگا لیا ہے ۔

واضح رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریٹائرڈ فوجی افسرا ن ،ریٹائرڈ ججز اور دیگر سرکاری افسرا ن کے کروڑوں روپے انوسمنٹ کے نام پر لگانے کے بجائے میسرز رائل سیکورٹی پرائیوٹ لمیٹیڈ کے مالکان نے پلاٹس و بلدنگز کی خریداری کرلی اوور اتنی ہی مالیت کی رقوم کو اپنی زاتی بینک اکاوئنٹس میں منتقل کر دیا ۔

ابتداء میں جن سرکاری افسران و ججز کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ان کی شکایت پر ملیر کینٹ تھانے میں دھوکہ دہی کی دفعات پر مقدمہ الزام نمبر 289/2021 درج کیا گیا تھا اور سندھ پولیس میں تعینات ایڈیشنل آئی جی آپریشنز کیپٹن حیدر رضا کے لیٹر پر ان ملزمان کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لئے اس کیس کو ایف آئی اے کراچی منتقل کیا گیا تھا جب کہ جن سرکاری افسران کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں انوسمنٹ کے نام پر دھوکہ ہوا تھا ان میں سے ایک ملیر کینٹ کے رہائشی بریگیڈئیر ریٹائرڈ شاہد محمود کی درخواست پر ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل میں انکوائری نمبر 40/2019 کا پہلے سے ہی اندراج تھا ۔

اس لئے ملیر کینٹ تھانے سے منتقل ہونے والا مقدمہ بھی منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لئے ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کو منتقل کیا گیا تھا اور اس تحقیقات کے دوران تین مرکزی ملزمان عمران خان ،رضوان ریاض اور عاطف شبیر نے منافع کا لالچ دے کر سرکاری افسران ،ریٹائرڈ ججز کو میسرز رائل سیکورٹیز پرائیوٹ لمیٹیڈ کے ذریعے اسٹاک ایکسچینج میں انوسمنٹ کا جھانسہ دیا گیا اور متاثرہ افراد سے وصول کی گئی رقم کو زاتی اکاوئنٹس میں منتقل کرنے کے ساتھ کمرشل و رہائشی پلاٹس کی خریداری بھی کی گئی اور ان پلاٹوں کو اپنے نام پر بھی منتقل کیا گیا ۔

ایف آئی اے کی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ جس وقت میسرز رائل سیکورٹیز پرائیوٹ لمیٹیڈ کے خلاف شکایات آنا شروع ہوئیں تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور ایس ای سی پی میں دو علیحدہ علیحدہ تحقیقاتی ٹیمیں بنی تھیں جس میں اس کمپنی کو فراڈ قرار دیا گیا تھا جب کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تحقیقاتی ٹیم نے میسرز رائل سیکورٹیز پرائیوٹ لمیٹیڈ کا لائسنس منسوخ کرنے کے ساتھ ایک کروڑ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا جب کہ تحقیقات کے دوران ملزم عاطف شبیر کی اہلیہ نائمہ عاطف کو بھی فراڈ میں ملوث قرار دیا گیا اور اس انوسمنٹ کمپنی کا بغیر ٹریڈنگ اکاوئنٹس کے چلائے جانے کا بھی انکشاف ہوا تھا ۔