کیا سیلاب عذاب الہی ہے؟

سیلاب

 

اس وقت وطن عزیز پاکستان کا تقریبا آدھا خطہ سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔ بارشوں کے تسلسل کے نتیجے میں کئی بستیاں اجڑ چکی ہیں۔ سینکڑوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، درجنوں افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس موقع پر ہمارے حکمران بے حسی کی چادر اوڑھے غفلت کی نیند سو رہے ہیں۔ بعض قوم کے مقتدا یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ یہ قوم کی بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے، اس پہ توبہ و استغفار کرنی چاہیے۔ اس صورتحال میں سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ سیلاب عذاب ہے؟ اس میں ایک تو ہماری اجتماعی حیثیت ہے اور دوسری حیثیت طبقات کی ہے۔

اجتماعی حیثیت سے اس صورتحال کو دیکھا جائے تو یقینا اجتماعی طور پر قوم کی بد اعمالیوں اور گناہوں کی وجہ سے اللہ کی ناراضگی کی علامت ہے، وقت پر بارشوں کا نہ ہونا یا ضرورت سے زائد بارش کا ہونا اسی کی غمازی کرتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ جب عذاب آتا ہے تو اس میں نیک و بد کی تفریق نہیں ہوتی، وہ اجتماعی طور پہ آتا ہے ۔البتہ اخروی زندگی میں معیار اعمال ہوں گے۔ اس حیثیت سے صرف متاثرین طبقہ سے مخاطب ہونے کی بجائے پوری قوم کو اپنی بد اعمالیوں پر شرمندہ ہوتے ہوئے اللہ کے حضور توبہ و استغفار کرنی چاہیے اور نافرمانی پر اللہ سے معافی کا سوال کرتے ہوئے عافیت و کرم طلب کیا جانا چاہئے۔

دوسری حیثیت طبقات کی ہے۔ ایک طبقہ وہ ہے جو اقتدار میں ہے، وسائل اور اختیارات رکھتا ہے۔ اللہ تعالٰی قرآن کریم اختیارات دینے کا مقصد یہ ذکر کرتا ہے کہ وہ دنیا کے سامنے ظاہر کر دے کہ یہ کس طرح کے اعمال کرتے ہیں۔ اب چونکہ یہ سیلاب پہلی بار نہیں آیا بلکہ اس سے پہلے مختلف موقعوں پر آتا رہا اور مختلف علاقے اس کا نشانہ بنتے رہے۔ اولا تو اس صاحب اختیار طبقہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ پانی کو محفوظ کرنے کا انتظام کرتے تاکہ لوگ زیادہ پانی آنے کے نتیجے میں کسی بڑی مشکل کا شکار نہ ہوں دوسرا اس پانی سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

حکمران طبقے نے پہلے تو یہاں کمزوری دکھائی اور اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ کئے۔ دوسری ذمہ داری یہ تھی کہ جب سیلابی صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور آئے روز گھمبیر ہوتی چلی جا رہی ہے تو اس وقت تمام مقتدر حلقوں کے ذمہ فرض تھا کہ وہ قوم کو اس مشکل اور مصیبت سے نکالنے کے لئے ہنگامی طور پر اقدامات کرتے اور کسی بڑے نقصان سے بچا لیتے۔

اس صورتحال میں بھی اس طبقے نے انتہائی مایوس کیا اور اتنے دن گزرنے کے بعد بھی حکومتی مشینری حرکت میں نہیں آئی بلکہ بدستور اس کی ترجیحات اپنے سیاسی مفادات ہیں۔ حکمران طبقے کی اس بے حسی اور لاپرواہی کو دیکھ کر بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ سیلاب ان کے حق میں باعث عذاب ہے۔ کیونکہ اس موقع پر ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس پہلے سے زیادہ ہونا چاہئے تھا اور خود کو قوم خادم سمجھتے ہوئے ان کے بچاؤ کے لیے مناسب اقدامات کرنے تھے جس سے وہ غافل رہے اور اللہ کی طرف سے عطا کردہ اقتدار کے حقیقی مقصد میں ناکام ہوئے۔

متاثرین طبقہ کے متعلق اس کو امتحان قرار دیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالٰی بسا اوقات اپنے بندوں پر سخت حالات بھیج کر امتحان لیتا ہے اور دیکھنا چاہتا ہے کہ کون اس مشکل میں اسے یاد کرتا ہے؟ اول تو اللہ سے پناہ مانگنی چاہئے کہ وہ کسی امتحان میں مبتلا کرے اور آ جانے پر صبر کرتے ہوئے اللہ سے عافیت کا سوال کرنا چاہئے۔ اسی طرح باقی قوم کا بھی امتحان ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی میں کیا اپنے بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہوتی ہے؟ ان کے بچاؤ کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے؟

اب ہر انسان کو مجموعی اور طبقاتی حیثیت سے خود کو دیکھنا چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری کس قدر ادا کر رہا ہے اور اسے اپنی ذمہ داری اور جواب دہی کا کتنا احساس ہے؟