ڈائریکٹرز فائنانس کو مستشنا قرار دیئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، ڈاکٹر شاہ علی القدر

جامعہ کراچی میں 109 طلبا و طالبات کو ایم فل، پی ایچ ڈی کی ڈگریاں تفویض

فپواسا سندھ و انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر شاہ علی القدر نے اپنے ایک مذمتی بیان میں حکومت سندھ کی جانب سے جامعات کے ڈائریکٹرز فائنانس کو وائس چانسلر کے سامنے جواب دہی سے مستشنا قرار دیے جانے کے عمل کو جامعات کے مستقبل کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وائس چانسلر جامعہ کو کسٹوڈین اور براہ راست سربراہ ہوتا ہے جو بہتر طور پہ جامع کے معاملات سے آگاہی کی بنیاد پہ مالی حوالوں سے فیصلے کرتا ہے۔ مگر اس طرح کی قدغن اسے کے کردار کو محدود کر کہ جامعات کو بھی فتح کرنے کی حکومتی سازش کے علاوہ کچھ نہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستان کے کرکٹ ورلڈ کپ 2023 میں کوالیفائی کرنے کے امکانات روشن

انہوں نے سوال کیا کہ اپنے ہی مقرر کردہ وائس چانسلر کو اس بنیادی ذمہ داری سے ہٹا کر سندھ حکومت کیا ثابت کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقلا” غیر ذمہ دارانہ فیصلوں کے ذریعہ حکومت سندھ جامعات کو بھی گھوسٹ اسکولز میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

سندھ یونیورسٹیز ترمیمی بل 2018 میں بھی من مانی ترامیم جامعات کے سنڈیکیٹ اور سینٹ جیسے اداروں کی وقعت کو ختم کر کہ انہیں محض ربڑ اسٹیپمپ بنانے کی کوشش ہے، جس کی فپواسا پرزور مذمت کرتی ہے۔

صدر فپوسا سندھ و صدر، انجمن اساتذہ جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شاہ علی القدر نے کہا کہ وزیراعلی سندھ اور سندھ حکومت کسی بھی ایسے اقدام سے باز رہے