بلوچستان میں بارشوں سے مزید 9 افراد جاں بحق، تعداد 216 ہوگئی

بلوچستان میں ہونے والی طوفانی بارشوں سے مزید 9 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد صوبے میں اموات کی مجموعی تعداد 216 ہو گئی ہے۔

حالیہ بارشوں نے رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں ہر طرف تباہی کی داستانیں رقم کی ہیں، بلوچستان میں بارش اور سیلابی ریلوں سے ساڑھے 26 ہزار سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ رابطہ سڑکیں، پل، حفاظتی بند اور کئی چھوٹے ڈیم بھی ٹوٹ گئے۔

بلوچستان کے شمال مشرقی حصے میں کوژک ٹاپ، شاخہ ٹاپ اور قلعہ عبداللہ میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے اور بیشتر ندیوں میں اونچے درجے کے سیلابی ریلے موجود ہیں۔اس کے علاوہ کوئٹہ چمن شاہراہ زیرآب آ گئی ہے اور سیلابی پانی کئی مقامات پر سڑک بہا کر ساتھ لے گیا ہے جس سےکوئٹہ اور چمن کے درمیان ہر قسم کی زمینی آمدورفت معطل ہوگئی ہے۔

انتظامیہ کے مطابق بلغانی کے علاقےکلی رشید میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا جس نے کئی مکانات تباہ کر دیے ہیں۔

کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے موسلادھار بارش ریکارڈ کی جا رہی ہے جبکہ ندی نالوں میں طغیانی کی کیفیت ہے۔

ادھر سیم نالہ محمد پور گم والا کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا جس کے باعث سیلابی پانی قریبی آبادیوں میں داخل ہو گیا، ڈیرہ اسماعیل خان کے پہاڑی سلسلوں سے آنے والے ریلوں نے تباہی مچا رکھی ہے جس کے باعث پنجاب بلوچستان شاہراہ چوتھے روز بھی بند ہے۔