ڈاؤ یونیورسٹی کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس

ڈاؤ یونیورسٹی

کراچی ( پ ر) جوائنٹ ایکشن کمیٹی، ڈاو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے مرکزی ارکان کا اہم اجلاس اوجھا کیمپس میں منعقد ہوا۔

ڈاو پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں انتظامیہ کیجانب سے بندربانٹ اور اقرباپروری تسلسل سے جاری ہے جبکہ ملازمین کیساتھ ہر سطح پر حق تلفی و ناانصافی جاری ہے۔

مزید پڑھیں:جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس دارالافتاء مفتی سیف اللہ جمیل ؒسپرد خاک

ناقص ہیلتھ انشورنس پالیسی سے ملازمین سخت اذیت و مشکلات کا شکار ہیں اور بنیادی طبی ضروریات سے محروم ہیں۔ ہر مشکل حالات و عالمی وباء میں ملک اور شہریوں کیلئے خدمت و کام کرنے والے ملازمین اپنے جائز بنیادی الاونسز سے محروم ہیں۔

سالوں سے کام کرنے والے ملازمین اگلے گریڈوں میں پرموشن و اپ گریڈیشن سے محروم ہیں دوسری جانب بغیر اشتہار پیراشوٹ سے آئے غیر قانونی کنٹریکٹ ایمپلائز کو لاکھوں کی تنخواہیں اور مراعات دی جارہی ہیں اور ہر چھ ماہ بعد مزید تنخواہیں اور گریڈ بڑھا کر نوازا جارہا ہے۔

سپریم کورٹ و ہائیکورٹ کے فیصلوں اور احکامات کے برعکس ریٹائرڈ ملازمین کو غیر قانونی بھرتی کرکے لاکھوں کی تنخواہیں اور مراعات سے نوازا جارہا ہے۔ من پسند و مخصوص ملازمین کو لاکھوں روپے کے اسپیشل الاونس، پروجیکٹ الاونس، اعزازیے اور پیٹرول کی مد میں نوازا جارہا ہے۔ پبلک سیکٹر یونیورسٹی کو ذاتی جاگیر سمجھ کر سرکاری فنڈ و وسائل پر عیاشی لگا رکھی اور یونیورسٹی پر شدید مالی بوجھ لادا جارہا ہے۔

انتظامیہ سے کئی دفعہ تحریری درخواستیں اور ملاقاتوں میں جائز مسائل حل کرنے کی درخواست کی گئی لیکن مسلسل غیر سنجیدگی لاپروائی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ اب ملازمین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ آل سندھ یونیورسٹی ایمپلائز فیڈریشن کا خصوصی اجلاس جلد لاڑکانہ میں منعقد کیا جارہا ہے جس میں ڈاؤ یونیورسٹی کے محروم و مظلوم ایمپلائز کیلئے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:اسریٰ یونیورسٹی حیدر آباد کیمپس پر مافیا نے قبضہ کر لیا : چانسلر کا الزام

سندھ کی 26 پبلک سیکٹر جامعات کی آفیسرز و ایمپلائز ایسوسی ایشنز، ینگ نرسنگ و پیرامیڈیکل ایسوسی سندھ اور آل سندھ پیپلز پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن کے تعاون سے آئینی و قانونی حق کے تحت پرامن احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جارہا ہے۔

پہلے مرحلے میں یونیورسٹی کے تمام کمپسس میں احتجاجی بینرز آویزاں کیے جائینگے اور ملازمین میں موبلائزیشن آگاہی مہم شروع کی جائیگی۔ بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی جائینگی اور دھرنے اور احتجاج کیا جائے گا اگر انتظامیہ نے جائز مطالبات و مسائل فوری حل نہیں کیے تو ٹوکن اسٹرائیک کی جائے گی اور پرامن ریلییاں نکالی جائینگی اور فائنل اسٹرائیک کی جائے گی۔

ان تمام حالات کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے اگر انتظامیہ یا کسی حواری نے ایمپلائز کو حراسمنٹ اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا تو مزید احتجاج اور قانونی کاروائی اور سختی سے نمٹا جائے گا۔