جامعہ اردو کو بیرون ملک سے چلانے کا انوکھا سلسلہ شروع

جامعہ اردو

 

جامعہ اردو کے وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر عطاء نے 20 جون کو وزارت تعلیم کو درخواست دی تھی کہ وہ یکم جولائی سے 20 جولائی تک بیرون ملک رخصت پر جا رہے ہیں۔

تاہم وفاقی وزیر تعلیم نے وائس چانسلر کے اس عمل پر اظہار نا پسندیدگی کرتے ہوتے ان کی رخصت یکم جولائی سے 15 جولائی تک کی تھی۔ اور انہیں 16 جولائی کو رجوع بکاری کا حکم دیا تھا اس دوران سینئر پروفیسر و رئیس کلیہ فنون ڈاکٹر ضیاء الدین کو نگران دفتر شیخ الجامعہ کا چارج سونپا تھا جس کے باوجود 15 جولائی یا اپنی بتائی گئی 20 جولائی تک ڈاکٹر اطہر عطاء ملک میں واپس نہیں آئے ہیں ۔

حیران کن طور پر اس دوران 16 جولائی کو رجسٹرار نے نگران دفتر شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضیاء الدین سے چارج واپس لینے کا حکم نامہ نکال دیا تھا ۔جس کے بعد سے تاحال اردو یونیورسٹی کو بیرون ملک سے چلایا جا رہا ہے۔

جامعہ اردو کی ترجمان ڈاکٹر ارم فضل کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق وائس چانسلر بیرون ملک سے یونیورسٹی چلانے کا نیا ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔

پریس ریلیز زکے مطابق وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر اطہر عطاء نے کہا ہے کہ وہ جامعہ اردو کے تمام مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں کہ یہ مسائل جلد از جلد حل ہوں۔ جامعہ کے مسائل کی بڑی وجہ فنڈز کی کمی ہے۔ اس کمی کو ہورا کرنے کے لئے وہ اقدامات کررہے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے صدر انجمن اساتذہ، عبدالحق کیمپس ڈاکٹر فیصل جاوید، جنرل سیکریٹری روشن سومرو ، ڈاکٹر یاسمین سلطانہ، ڈاکٹر کہکشاں ناز، اور لیکچرر خرم شاہ نواز کے ساتھ بذریعہ وڈیو لنک اجلاس میں کیا۔ اجلاس میں مختلف امور پر تفصیل سے بات ہوئی جس میں لیکچررز کے تقررنامے، تنخواہ اور ہاؤس سیلنگ کی بروقت ادائیگی، معاہداتی اساتذہ کے تقرر نامے ، ان کی تنخواہوں میں اضافہ اور امتحانی بلز و شام کی ادائیگیاں شامل ہیں۔

انجمن اساتذہ نے شیخ الجامعہ کے اقدامات کو سراہا اور ان کے خلاف چلنے والی تمام منفی خبروں کی مذمت کرتے ہوئے شیخ الجامعہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہارکیا کیونکہ جامعہ اردو کے دیرینہ مسائل کا حل مستقل شیخ الجامعہ ہی ہیں اور پروفیسر ڈاکٹر اطہر عطاء نے اپنی قلیل مدت میں جو اقدامات کئے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت جلد جامعہ اردو ترقی کی منازل طے کرے گی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *