مفتی منیب الرحمن کی وزیر اعظم پاکستان، وزیرِ اعلیٰ سندھ ، وزیر بلدیات سے اپیل

مفتی منیب الرحمٰن نے کہا ہےکہ حالیہ بارشیں غیرمعمولی رہیں اور ان کا سلسلہ تاحال تھمنے میں نہیں آرہا۔ کراچی کا انفرااسٹرکچر تباہ وبرباد ہو چکا ہے،وفاقی ، صوبائی اور مقامی حکومتوں کو کراچی کے انفرااسٹرکچر کی بحالی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی فنڈز مختص کرنے چاہییں ، سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاون کے اکائونٹ میں جو رقم جمع ہے۔ اسے بھی فوری طور پر کراچی کے انفرااسٹرکچر کی بحالی کے لیے جاری کرنا چاہیے۔ سب سے پہلے شارعِ فیصل، ایم اے جناح روڈ ،میکلوڈ روڈ، یونیورسٹی روڈ ، راشد منہاس روڈ، ابوالحسن اصفہانی روڈ،شاہراہِ قائدین، نیشنل ہائی وے،کورنگی روڈ، کارساز تا شیر شاہ ،سہراب گوٹھ تا مزارِ قائد،سرجانی تا گرومندر ،وغیرہ کی تعمیر ومرمت کو ترجیح دینی چاہیے۔ انجینئرنگ کے عملے کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ مختصر وقت میں اس ٹوٹ پھوٹ کا ڈیٹا جمع کریں ، نیز جن مقامات پر (مثلاً: نیپا پل کے شروع ہونے سے پہلے )ہمیشہ پانی غیر معمولی طور پر جمع ہوتا ہے، ایسے مقامات کی نشاندہی کر کے ان کامستقل حل نکالا جائے ،بار بار کھڈے بن جانے والے اورزیادہ پانی جمع ہونے والے بعض مقامات کی مرمت کا کام سریے اور کنکریٹ سے کیا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے۔ مخصوص مقامات پر پانی کی نکاسی کو فوری طور پر بہتر بنایاجائے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عالمی طور پر موسمیاتی تبدیلی نے ہمارے ملک کو بھی شدیدمتاثر کیا ہے، بلوچستان بھی اسی کی زَد میں ہے اور گزشتہ برس سے کراچی بھی اس کی زَد میں ہے ، ملکی اور عالمی موسمیاتی اداروں کو طویل المدت پیشگوئیوں کی فنی مہارت حاصل ہے یا نہیں،اس کا ہمیں علم نہیں ہے۔

مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ ہمیں اس بات کا اعتراف ہے کہ رواں برس بارشوں کے رک جانے پرمقامی حکومت نے بعض بڑی سڑکوں سے عملے کے ذریعے کسی حد تک پانی کی نکاسی کی ہے، لیکن استعداد بھی کم ہے ، وسائل بھی کم ہیں ، شاید عملہ بھی کم ہے اور ہمارے ہاں فرض شناسی کا قومی معیار بھی تنزّل کا شکار ہے،نیز بارش کے تسلسل نے سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دیا۔

ہماری اپیل ہے کہ وزیر اعظم پاکستان، وزیرِ اعلیٰ سندھ ، وزیر بلدیات سندھ اور ایڈمنسٹریٹر کراچی اس مسئلے پر ایک تفصیلی مشترکہ میٹنگ کریں۔ صحیح اعداد وشمارجمع کیے جائیں اور ممکنہ مصارف کا تخمینہ لگایا جائے۔ وفاق اور صوبہ دونوں وسائل کے اندر رہتے ہوئے کراچی کے لیےزیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کریں اور اس مسئلے کو حل کریں۔ سڑکوں کی تعمیر ومرمت کا کام ایسا نہ ہو کہ اگلی بارش میں پھر بہہ جائے۔ معیار کو دیرپا اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ماہرین سے بھی مدد لی جاسکتی ہے ۔ کراچی سے حاصل ہونے والے موٹروہیکل ٹیکس کو بھی کراچی کی سڑکوں کی بحالی پر صرف کیا جائے، اس مسئلے کو سیاسی بلیم گیم کا ذریعہ نہ بنایا جائے، بلکہ قومی مسئلہ سمجھ کر اس کا حل نکالاجائے۔

 

 

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *