پچھتر روپے کے نوٹ پر شایع شدہ تصاویر پر تنازع

تحریر: محمد عثمان جامعی

پچھتر روپے کے نوٹ پر شایع شدہ تصاویر کا معاملہ بھی متنازعہ ہوگیا۔ ایک صاحب اپنی پوسٹ میں معترض ہیں کہ اس میں سرسید احمد خاں کی تصویر کیوں؟ ان کا اس دھرتی سے کیا تعلق؟ اس سوچ کے حاملین کے لیے عرض ہے کہ جس دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان بنا وہ سرسید نے پیش کیا، ان کی علی گڑھ یونی ورسٹی مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف لانے میں اہم ترین کردار ادا کیا، اس درس گاہ سے موجودہ پاکستان میں شامل صوبوں سمیت پورے برصغیر کے مسلمانوں نے استفادہ کیا۔

یہ اعتراض تو تحریک پاکستان کے دوران کرنا چاہیے تھا کہ جناح صاحب! یہ آپ نے ان صوبوں کے مسلمانوں کو اس تحریک میں کیوں شامل کیا ہے اور صف اول میں جگہ دی ہے جو پاکستان میں شامل ہی نہیں ہوں گے؟ آپ کیوں علی گڑھ یونی ورسٹی کو مسلم لیگ کا اسلحہ خانہ کہہ رہے ہیں؟

مزید پڑھیں:جولائی 2022ء میں کارکنوں کی ترسیلات زر

پاکستان کے لیے ان خطوں کے مسلم عوام سے کیوں ووٹ مانگ رہے ہیں جو اس ’’دھرتی‘‘ سے تعلق نہیں رکھتے جہاں پاکستان بننا ہے؟ شکر ہے کہ ان صاحب نے قائداعظم کی تصویر پر اعتراض نہیں کیا اور انھیں فرزندزمین تسلیم کرلیا حالاں کہ گجراتی زبان بولے والے محمدعلی جناح بھی گجرات سے ہجرت کرکے آنے والے ماں باپ کے سپوت تھے۔ ایک اعتراض یہ ہے کہ نوٹ پر لیاقت علی خاں کی تصویر کیوں نہیں؟ میں اس اعتراض کو بھی درست نہیں سمجھتا۔

ہندوستان کے مسلمانوں کے تشخص اور اس تشخص کی بنیاد پر حاصل ہونے والے پاکستان کی تحریک کے چار بنیادی کردار ہیں، محمد علی جناح، علامہ اقبال، سرسید احمد خان اور چوہدری رحمت علی۔

مزید پڑھیں:وفاقی وزیر شازیہ عطا مری کا معیشت کے حوالے سے منقعدہ کانفرنس میں اظہار خیال</strong

نوٹ پر ان چاروں کی تصاویر ہونی چاہیے تھیں، محترمہ فاطمہ جناح کی تصویر کا کوئی جواز نہیں تھا اور چوہدری رحمت علی کو نظرانداز کرنا اس زیادتی کا تسلسل ہے جو ان کے ساتھ قیام پاکستان کے بعد بلکہ اس سے بھی پہلے سے شروع ہوگئی تھیں۔ مجھے حیرت ہے کہ پنجابیت کے دعوے دار بھی اس معاملے میں خاموش ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *