حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ (قسط 2)

ہجرت

مکہ میں اسی طرح وقت گذرتارہا…حتیٰ کہ جب ہجرت کاحکم نازل ہواتوکیفیت یہ تھی کہ تمام مسلمانوں نے خفیہ طورپرمکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کی،جبکہ حضرت عمرؓ نے جب ہجرت کاارادہ کیا…توبڑی ہی شانِ بے نیازی کے ساتھ مشرکینِ مکہ کی بھیڑ سے بے خوف وخطرگذرتے ہوئے بیت اللہ کے قریب پہنچے۔

نہایت اطمینان کے ساتھ طواف کیا،دورکعت نمازپڑھی،اس کے بعدوہاں موجودان سردارانِ قریش کومخاطب کرتے ہوئے کہا:’’میں مدینہ جارہاہوں …تم میں سے اگرکوئی یہ چاہتاہے کہ اس کی ماں اس کی لاش پرروئے…اس کی بیوی بیوہ ہوجائے…اوربچے یتیم ہوجائیں …تووہ آئے… مجھے روک لے…‘‘۔

یہ سن کروہ تمام سردارانِ قریش سہم گئے،اوران میں سے کسی کوآگے بڑ ھ کرروکنے کی ہمت نہیں ہوئی…اوریوں حضرت عمرؓ خفیہ ہجرت کی بجائے…علیٰ الاعلان وہاں سے مدینہ کی جانب روانہ ہوگئے.

مزید پڑھیں:ایس ایس ٹیز کی جانب سے ایسوسیشن کی تنظیم نو کی ہدایات جاری

غزوات

مکی دورمسلمانوں کیلئے مظلومیت اورمشکلات کادورتھا،اس کے بعدمدنی دورآیاجومکی دورسے ہرلحاظ سے مختلف تھا،یہاں مسلمان اب مشرکینِ مکہ کے مظالم اورایذاء رسانیوں سے دورمسرورومطمئن اورخوشگوارزندگی بسرکرنے لگے…مشرکینِ مکہ کومسلمانوں کی یہ نئی خوشگوارزندگی پسندنہ آئی ۔ چنانچہ انہوں نے متعددبارمسلمانوں کوصفحۂ ہستی سے نیست ونابودکردینے کی ٹھانی، جس کے نتیجے میں بہت سے غزوات کی نوبت آئی۔

ایسے میں ہرغزوے کے موقع پرحضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ کی زیرِقیادت شرکت کی ، شجاعت وبسالت کے بے مثال جوہردکھائے۔
اسی کیفیت میں مدینہ میں وقت گذرتارہا،جنگ کاموقع ہویاامن کازمانہ، سفرہو یا حضر، ہمیشہ ہرحالت میں اورہرموقع پرحضرت عمرؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت ٗنیزصحبت ومعیت میں پیش پیش رہے…مزیدیہ کہ ہرموقع پررسول اللہ ﷺ کی مشاورت کے فرائض بھی بحسن وخوبی انجام دیتے رہے۔

مزید پڑھیں:ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور کی کاروائی، ملزم گرفتار

حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب

٭…اِنَّ اللّہَ تَعَالَیٰ جَعَلَ الحَقَّ عَلَیٰ لِسَانِ عُمَرَ وَقَلبِہٖ
ترجمہ:(بے شک اللہ تعالیٰ نے ’’حق ‘‘ کوعمرکی زبان پراوران کے دل میں رکھ دیاہے)

٭…لَو کَانَ نَبِيٌّ بَعدِي لَکَانَ عُمَرَ بن الخَطّاب
ترجمہ:(میرے بعداگرکوئی نبی ہوتا تویقیناوہ عمربن خطاب ہی ہوتے)

٭…لَقَد کَانَ فِیمَا قَبلَکُم مِنَ الأُمَمِ ٌ مُحَدَّثُونَ مِن غَیرِ أن یَکُونُوا أنبِیَائَ فَاِن یَکُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَاِنَّہٗ عُمَرُ
ترجمہ:(تم سے پہلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہواکرتے تھے جواگرچہ نبی تونہیں تھے ٗ البتہ ان کے قلب میں [من جانب اللہ] القاء کیاجاتاتھا ، میری امت میں بھی اگرکوئی ایساانسان ہوتو یقیناوہ عمرہی ہوسکتے ہیں )

٭…یَا ابنَ الخَطّابِ! وَالَّذِي نَفسِي بِیَدِہٖ مَا لَقِیَکَ الشَّیطَانُ سَالِکاً فَجّاً اِلَّاسَلَکَ فَجّاً غَیرَکَ
ترجمہ:(اے ابنِ خطاب! قسم اس اللہ کی جس کے قبضے میں میری جان ہے،جب کبھی شیطان تمہیں کسی راستے پرچلتاہوا دیکھتا ہے تووہ فوراً [وہ راستہ چھوڑکر]دوسرے راستے پرچلنے لگتاہے)
رسول اللہ ﷺ کے نزدیک اپنے جلیل القدرصحابی حضرت عمربن الخطاب ؓ کیلئے جومقام ومرتبہ تھا اس کااندازہ مذکورہ بالااحادیث سے بخوبی کیاجاسکتاہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *